محبت کرنیوالےخبردار’’سپر مون‘‘کل13جولائی کی شام نمودارہوگا

تو تیار ہوجائیں ’’سپر مون ‘‘ یا چودھویں کے چاند کے دیدار کے لئے ۔ 13 جولائی کی رات پاکستان سمیت دنیا بھر میں چاند زمین کے قریب ترین ہوگا اور معمول سے کہیں بڑا دکھائی دے گا۔
چودھویں کا چاند ہوتم یا آفتاب ہو۔۔۔ انسان اور چاند کا رشتہ بڑا پُرانا ہے۔ عاشق حضرات اپنے محبوب کو چاند سے تشبیہ دیتے چلے آئے ہیں مائیں دلار سے اپنے بیٹے کو اپنا چاند قرار دیتی ہیں


کبھی یہ محبوب کا رُخِ زیبا، کبھی یہ وصل کی مرمریں روشنی کا ہالہ ہے، کبھی ہجر کے موسم میں رتجگوں کا اُجالا۔
ہمارے ہاں چاند میں چرخا کاتنے والی بڑھیا کی کہانی اب بھی عام ہے۔ اسی طرح چین کی ایک لوک کہانی میں چاند میں رہنے والی عورت کا ذکر ملتا ہے ، جس کی یاد میں چینی ہرسال موسم خزاں میں چاند کا تہوار مناتے ہیں۔
کوریا اور جاپان میں چاند کے خرگوش کی کہانی ان کے ادب اور روایت کاحصہ ہے۔ نیوزی لینڈ کے قدیم ادب میں رونا نام کی ایک خوبصورت لڑکی اور چاند کا قصہ موجود ہے۔ یونانی دیومالا میں چاند کو ایک دیوی کا درجہ حاصل ہے۔ اسی طرح ہندومذہب میں بھی سوما دیوتا کا تعلق چاند سے ہے۔ لیکن سائنس دانوں کا کہناہے کہ چاندسوائے مردہ سنگلاخ پہاڑوں اور ریگ زاروں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حتی کہ اس کی روشنی بھی اپنی نہیں ہے۔ اسے بھی وہ سورج سے لے کرزمین پر منعکس کرتا ہے۔
اس سال 2022ء میں سپر مون زمین کے اپنے قریب ترین مقام یعنی 357,263 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ اس سال اسے (’’آہو چاند BUCK MOON‘‘ (کا نام دیا گیا ہے
قرون وسطٰی میں یہ نظریات رائج تھے کہ پورے چاند کے وقت انسان پر پاگل پن کے دورے پڑ سکتے ہیں، اسی دور میں چاندنی رات میں نمودار ہونے والی مخلوقات ڈریکولا اور انسان نما بھیڑیوں (وئیروولف) کی افواہ نما قصے بھی سننے میں آتے ہیں ۔ اسی طرح انسانی جذبات بھی اپنے عروج پر ہوتے ہیں محبت کے مارے افراد بھی الٹی سیدھی حرکتیں کرنے پر تل جاتے ہیں ۔
سوئیڈش محقق مائیکل اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ چاند کی پوری شکل انسان کی نیند کے قدرتی عمل یا حیاتیاتی گھڑی پراثر انداز ہوتی ہے جس کی وجہ سے پورے چاند کی راتوں میں ہم پر نیم بیداری کی کیفیت طاری رہتی ہے اور اس رات نیند کا دورانیہ عام دنوں کی نسبت 25 منٹ کم رہتا ہے۔
چودہویں کے چاند کے زمین پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو جوار بھاٹے کے علاوہ انسانی نفسیات پر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ چاندراتوں میں نفیاتی امراض کے دورے، ڈیپریشن، خودکشی اور قتل کے واقعات ، حادثات اور کئی دوسرے جرائم بڑھ جاتے ہیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com