ایشاکپ پر چھائے سیاہ بادل تیزی سے چھٹنے لگے

کراچی:(علی غوری سے )  ایشیاکپ پر چھائے سیاہ بادل تیزی سے چھٹنے لگے،آسٹریلیا سے تاحال کامیاب سیریز نے سری لنکا کے حوصلے بلند کر دیے اور وہ میگا ایونٹ کی میزبانی بچانے کیلیے بھی پْرامید ہے، آئی لینڈرز کو پاکستان سے ہوم ٹیسٹ میچز کے ساتھ لنکا پریمیئر لیگ بھی منعقد کرنا ہے، حکام ایشیائی شوپیس ایونٹ سے قبل تمام مقابلے شیڈول کے تحت ہونے کیلیے پْراعتماد ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا کو حالیہ کچھ عرصے میں شدید معاشی بحران اور اس کے نتیجے میں ہونے والے عوامی مظاہروں کا سامنا رہا،اس کی وجہ سے وہاں پر ایشیاکپ کا انعقاد بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا تھا، گوکہ معاشی حالات اب بھی ابتر ہیں لیکن عوام کے غم و غصے میں کچھ کمی آنے سے پہلے جیسے احتجاجی مظاہرے نہیں ہورہے۔

یاد رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے اپنی حکومت کی جانب سے دورہ سری لنکا پر نظر ثانی کے مشورے پر بھی تمام فارمیٹس کیلیے ٹیم کو بھیجا،اس کے ساتھ اے ٹیم بھی ٹور پر آئی۔

سری لنکا کو پاکستان کی بھی ٹیسٹ سیریز کیلیے میزبانی کرنی ہے، پھر لنکا پریمیئر لیگ کا تیسرا ایڈیشن 31جولائی سے21 اگست تک ہوگا جبکہ اس کے بعد ایشیا کپ کھیلا جائے گا۔ ڈوڈنویلا نے کہا کہ لوگ سوال اٹھا رہے تھے کہ اس بحرانی کیفیت میں کیا ہم ٹورنامنٹ کا انعقاد کرسکتے ہیں تو ان کیلیے جواب یہی ہے کہ کرکٹ نے ہمیشہ ہی ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالا، اس سے غیرملکی کرنسی ملک میں آتی ہے،اس بار بھی یہ تمام مقابلے ہماری معیشت کیلیے سود مند ثابت ہوں گے۔

قبل ازیں سری لنکا کی ابترصورتحال کے سبب ٹورنامنٹ کو متحدہ عرب امارات منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا تاہم وہاں کی جھلسا دینے والی گرمی انعقاد میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ جس کے بعد متبادل کے طور پر بنگلہ دیش کا نام سامنے آیا، بی سی بی اپنے ملک میں ایشیائی کرکٹ کا میلہ سجانے کیلیے پوری طرح تیار بھی لگتا ہے۔

صدر نظم الحسن کا کہنا تھا کہ ایشیاکپ کی مزبانی اگر سری لنکا کرتا تو بنگلہ دیش کرے گا، سری لنکا اس وقت بہت ہی مشکل وقت سے گزررہا ہے،کرکٹ بورڈ کی حالت بھی اچھی نہیں ہے،اگر فیصلہ وینیو کی تبدیلی کا ہوا تو پھر ہمارا ملک پہلی ترجیح ہوگا۔

واضح رہے کہ ایشیا کپ کا آغاز 27 اگست سے ہونا تھا،البتہ اب یکم ستمبرسے انعقاد کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، ایونٹ میں 5 ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان شریک ہوں گے۔ چھٹی ٹیم کا انتخاب کوالیفائنگ مرحلے کے ذریعے ہونا ہے۔ اس مرتبہ ایشیا کپ کا انعقاد آسٹریلیا میں شیڈول ورلڈ کپ کے تناظر میں ٹی 20 فارمیٹ میں ہی ہوگا۔

واضح رہے کہ دفاعی چیمپئن بھارت نے 2018 کے ون ڈے فارمیٹ میں کھیلے جانے والے ایونٹ میں بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد فائنل میں شکست دی تھی

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com