آرٹس کونسل پاکستان کا سب سے بڑا ثقافتی ادارہ بن چکا ہے۔مرتضیٰ سولنگی بھارت کےغیرقانونی زیرتسلط کشمیرمیں کشمیریوں کی نسل کشی سے انسانی المیہ جنم لےرہا ہے،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ ملک میں معاشی استحکام لانا حکومت کی اولین ترجیح ہےنگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ پاکستان کوپ 28 میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سالانہ 100 ارب ڈالر کی فراہمی کے وعدوں پرعملدرآمد کا منتظر ہے، وزیراعظم اسلامو فوبیا نےانتہا پسندی، نفرت اور مذہبی عدم برداشت کو جنم دیا ہے،وزیراعظم انوارالحق کاکڑ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کلید کشمیر ہے،کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنایا جائے،وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب فرمائشی پروگرام بند،خسارے سے نکلنے کی شروعات،اسلامیہ یونیورسٹی نے شہر سے باہر چلنےوالی تمام بسیں بند کر دیں نوٹیفکیشن جاری وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے چین کے نائب صدر ہان ژینگ کی ملاقات، سی پیک منصوبوں پر مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، اسٹیٹ بینک نے رپورٹ جاری کردی مذہبی شدت پسندی پوری دنیاکا مسئلہ ہے،مودی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے،مشعال ملک

دادا جان "سید مسعود حسن شہاب دہلوی” کوہم سے جدا ہوئے33 برس بیت گئے! شہیر رضوی

دادا جان (سید مسعود حسن شہاب دہلوی) کو ہم سے جدا ہوئے 33 برس بیت گئے!

تحریر۔۔۔۔۔۔۔ شہیر رضوی

دادا جان، محترم سید شہاب دہلوی کا نام اور کام کسی تعارف یا حوالے کا محتاج نہیں. انھیں لکھنے والے شہاب دہلوی لکھتے اور کہتے ہیں، سمجھنے والے شہاب بہاول پوری. مگر چشم فلک شاہد ہے کہ وہ ان لاحقوں، سابقوں سے ماورا تھے. وہ اُردو ادب کی کہکشاں کا ایک روشن ستارہ تھے.

اُنھوں نے تمام عمر علمی ادبی سرگرمیوں کے لیے وقف کردی اور نتیجتاً انفرادی حیثیت میں ان کے کریڈٹ پر تحقیقی و تنقیدی کام کا انبوہ کثیر موجود ہے کہ اتنا کام تو حکومتی سرپرستی میں چلنے والے کسی ادارے نے نہیں کیا. کسی ستائش و صلہ کی پرواہ کیے بغیر اور ادبی مناقشات میں اُلجھے بغیر کام کرنا اُن کا خاصہ تھا.

دادا جان جتنے عمدہ نثرنگار تھے، اُس سے بھی زیادہ اعلیٰ پائے کےشاعر تھے، وہ جتنے بڑے صحافی تھے، اتنے ہی بلند مرتبہ محقق و مؤلف تھے. اُن کے متعلق میرے والد محترم ڈاکٹر شاہد رضوی کی بطور تاریخ کے طالب علم رائے ہے کہ حضرت شہاب دہلوی نے کوئی علمی، ادبی اور صحافتی خدمت نہ بھی سرانجام دی ہوتی، اُن کی شہرت کے لیے آپ کی تصنیف "خطہ پاک اُوچ”ہی کافی تھی. بلاشبہ اُن کی مذکورہ تصنیف سرسید احمد خان کی تصنیف آثار الصنادید سے کسی طور کم نہیں اور برصغیر میں جو رتبہ سائنٹیفک سوسائٹی کو حاصل ہے، خطہ بہاول پور میں اُردو زبان و ادب کی ترقی کے لئے بعینہ یہی رتبہ شہاب دہلوی کی اُردو اکیڈمی کو حاصل ہے. اگر سر سید کا "تہذیب الاخلاق” اُن کا صدقہ جاریہ ہے تو الہام اور سہ ماہی الزبیر شہاب دہلوی کا صدقہ جاریہ ہے. جو تخلیق کاران بہاول پور کے تشخص کی بہتری کی راہ پر گامزن ہے.

جناب شہاب دہلوی نے اپنے فکروعمل سے یہاں کے ماحول پر بہت گہرے اور دور رس اثرات مرتب کئے اور شعر و ادب کی ترقی کے ساتھ ساتھ انھوں نے علاقے کی تہذیب و ثقافت اور زبان و تاریخ کو محفوط کرنے کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں.آپ نے ساری زندگی خطہ بہاول پور کے دینی و روحانی تشخص کو اُجاگر کیا اور اُردو زبان و ادب کی ترویج و ارتقاء کی عملی کوششوں کے ساتھ ساتھ علمی سطح پر اس علاقے کی زبان و ادب کی تاریخ مرتب کی اور مختلف موضوعات پر درجنوں کتب لکھ کر ملکی سطح پر بہاول پور کو روشناس کرایا۔ دادا جان مرحوم کی تخلیقی اور تحقیقی شخصیت کئی جہتوں میں پھیلی ہوئی ہے انھوں نے ایسے ایسے موضوعات پر تحقیقی کام کیا جس کو پہلے کسی نے چھوا نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ وہ بہاول پور کی علمی ادبی اور سیاسی تاریخ کے مستند مؤرخ قرار پائے ہیں.

بلا شبہ آپ سے بڑھ کر اس خطہ کے تشخص کی نشرواشاعت کسی اور نے نہیں کی اور اس خطہ میں جدید نقطہ نگاہ سے علم و ادب کی جو خدمت ہوئی اُس کے بانی جناب شہاب دہلوی ہیں.

قارئین سے استدعا ہے کہ حضرت شہاب دہلوی رحمۃ اللہ کی مغفرت اور بلند درجات کے لیے دُعا فرمائیں

50% LikesVS
50% Dislikes
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com