اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام دسویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺکانفرنس کا انِقعاد وہیل چیئر ایشیا کپ: سری لنکن ٹیم کی فتح حکومت کا نیب ترمیمی بل کیس کے فیصلے پر نظرثانی اور اپیل کرنے کا فیصلہ واٹس ایپ کا ایک نیا AI پر مبنی فیچر سامنے آگیا ۔ جناح اسپتال میں 34 سالہ شخص کی پہلی کامیاب روبوٹک سرجری پی ایس او اور پی آئی اے کے درمیان اہم مذاکراتی پیش رفت۔ تحریِک انصاف کی اہم شخصیات سیاست چھوڑ گئ- قومی بچت کا سرٹیفکیٹ CDNS کا ٹاسک مکمل ۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر آج سماعت ہو گی ۔ نائیجیریا ایک بے قابو خناق کی وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ انڈونیشیا میں پہلی ’بلٹ ٹرین‘ نے سروس شروع کر دی ہے۔ وزیر اعظم نے لیفٹیننٹ جنرل منیرافسر کوبطورچیئرمین نادرا تقرر کرنے منظوری دے دی  ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں وزارت داخلہ کے قریب خودکش حملہ- سونے کی قیمت میں 36 ہزار روپے تک گر گئی۔ پنجاب حکومت کا بیوروکریسی کے تبادلے نہ کرنے کا فیصلہ کارل سیگن (1934 – 1996) ایک عظیم سائنسدان فالج کے اٹیک سے پوری عمر کی معذوری ہونے سے بچائیں ڈیپارٹمنٹ آف ہارٹیکلچر فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوائر منٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور پاکستان سوسائٹی آف ہارٹیکلچر سائنسز کے زیر اہتمام8ویں دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس آل پاکستان انٹرورسٹی ریسلنگ چیمپئن شپ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے 4 کانسی اور1چاندی کامیڈل جیت لیا صدرمملکت کی منظوری کے بغیر ہی قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے طلب، نوٹیفکیشن جاری ملتان ریجن میں بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف آپریشن جاری نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بلوچ لاپتہ افراد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہو گئے یادداشت کوتیز کرنے کیلئےمفید مشقیں وفاقی محتسب بہاولپورریجن میں واپڈا سمیت دیگرمحکموں کیخلاف شکایات پرعوام کو25 لاکھ روپے کاریلیف مل گیا

دسویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کا نفرنس

تحریر: محمداقبال ، شعبہ تعلقات عامہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور

نبی اکرم ﷺکی اسوہ حسنہ کو اپنانا ہر مسلمان کا شیوہ حیات ہے۔ آپ ﷺکی زندگی کے مطابق عصر حاضر میں رہنمائی حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں 1983ء میں قائم ہوئی، جب کہ با قاعدہ قیام 1987ء میں آیا۔ اس چیئر کی حیثیت سیرت کے میدان میں ریسرچ سیل اور دعوتی و تبلیغی سینٹر کی سی ہے۔ اس چیز کے قیام کا مقصد حضرت محمد مصطفی ﷺکے ابدی اور آفاقی پیغام کی روشنی میں انسانیت کے لیے فلاح دارین کے حصول کی رہنمائی کرنا ہے۔ تاکہ مسائل میں گھیرا انسان اپنے مسائل کا حل سیرت النبی ﷺکی روشنی میں ڈھونڈ سکے۔سیرت چیئراب تک نو بین الا قوامی سیرت کا نفرنسز ، ایک بین الاقوامی قرآن کا نفرنس، ایک قومی قرآن کانفرنس، دو قومی سیرت کانفرنسز اور تین خطبات بہاول پور جن کے مقررین ڈاکٹر محمد حمید اللہ (فرانس)، ڈاکٹر محمود احمد غازی (سابق صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد) اور ڈاکٹر سید سلمان ندوی (یونیورسٹی آف ڈربن ، ساؤتھ افریقہ ) ہیں، کا انعقاد کرواچکی ہے۔ ان کا نفر نسز میں دنیا بھر سے بیشتر معروف اہل علم شرکت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر سال ماہ ر بیع الاول کی متعدد تقریبات ، قرأت و نعت کے مقابلہ جات، پاکستانی جامعات کی سیرت چیئرز کے ڈائریکٹرز کی میٹنگ ، ایم فل، پی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے تحقیقی سیمینارز اور ائمہ ، خطبا اور دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ورکشاپس بھی منعقد کروائی جاچکی ہیں۔حال ہی میں سیرت چیئر کی انتظامیہ نے جامعہ ہذا کو سول سوسائٹی سے مکمل طور پر منسلک کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ جن میں سر فہرست یونیورسٹی اساتذہ اور ائمہ و خطبا کے لیے آگہی و تربیتی کا سلسلہ وار کامیاب انعقاد ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد مواقع پر قومی و بین الاقوامی سطح پر امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے سیمینارز کا انعقاد بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔

سیرت چیئر کا براہ راست دائرہ کار جامعہ ہذا سے وابستہ 80 ہزار کے لگ بھگ افراد ہیں، جن میں طلبا و طالبات، مستقل و جز وقتی اساتذہ اور دیگر ملازمین شامل ہیں، جب کہ بالواسطہ سیرت چیز کا دائرہ کار پوری امت مسلمہ بالخصوص مملکت خداد پاکستان ہے۔ سیرت چیئرکی حالیہ انتظامیہ مختلف النوع سر گرمیوں کے انعقاد میں پر عزم ہے ۔مختلف سکالرشپ پرو گرام کے تحت مستحق، ہو نہار اور ذی استعداد طلبہ خصوصاً مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل طلباکو ایم فل، پی ایچ ڈی اسکالر شپس مہیا کی جائیں گی۔ یہ طلبہ سیرت چیئر کے علمی، تحقیقی اور دعوتی پراجیکٹس میں دست و بازو ہوں گے۔تربیتی سیمینار کے تحت جامعہ ہذا کے طلبہ کے لیے تربیتی سیمینارز کا انعقاد کر وایا جائے گا، جس کا مقصد طلبہ میں سیرت النبی ﷺسے شغف پیدا کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت کی راہ ہموارہوگی۔اساتذہ کرام کی ٹریینگ پرو گرام کے تحت جامعہ ہذا کے اساتذہ کے لیے آگہی ورکشاپس کا انعقاد ملحوظ ہے۔ ان ورکشاپس کا مقصد جامعہ کے اساتذہ کی سیرت النبیﷺ کی روشنی میں تدریسی تربیت ہے۔ یہ ورکشاپس اساتذہ کو اپنےمشن میں پر عزم رہنے کے لیے مہمیز کا کام دیں گی۔سیرت چیئر کا یہ پرو گرام نعمت سلیم ٹرسٹ لاہور کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے ذریعے جاری ہے۔

اب تک 600 اساتذہ کرام ان ورکشاپس سے ٹریینگ لے چکے ہیں، عنقریب باقی اساتذہ بھی مستفید ہوں گے۔ائمہ و خطبا تربیتی ورکشاپ کا مقصد اہل مساجد و مدارس کو معاشرے سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہ افراد معاشرے کے اہم ستون ہیں، بڑھتے ہوئے معاشرتی بگاڑ کی بہتری میں مؤثر کردار انہی کا ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے پیش نظرسیرت چیئر ان کی تربیتی ورکشاپ کی متمنی ہے۔ سیرت چیئرکا یہ پرو گرام اعتدال فاؤنڈیشن لودھراں کے درمیان مفاہمتی معاہدے کے بعد جاری ہے ۔ اب تک دو ورکشاپس میں ڈویژن بھر کے 200 ائمہ و خطبا ٹریننگ لے چکے ہیں، عنقریب یہ دائرہ مزید وسیع تر ہو گا۔سیرت چیئر نے معاشرے میں انسانی اقدار کے حوالے سے بڑھتے ہوئے فقدان کو محسوس کرتے ہوئے اس اہم مسئلے پر علما و اسکالر کو دعوتِ فکر دی ہے۔ اس سلسلے میں دو روزہ دسویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺکا انعقاد 23-24 جنوری 2024 ء کو کیا گیا تھا ۔ اس کا نفرنس میں بیشتر ملکی و غیر ملکی اہل علم نے شرکت کی ۔ یہ کا نفرنس مختلف سیشنز پر مشتمل تھی ، جن میں افتتاحی اور اختتامی سیشنز کے علاوہ متعدد متوازی سیشنز بھی منعقد ہوئے ، جن میں پروفیسر ز ،ماہرین علوم اسلامیہ اور محققین و سامعین کی کثیر تعداد شریک تھے۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام دسویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺکانفرنس کا انِقعاد

انسانی اقدار اور معاشروں پر ان کے اثرات سیرت النبیﷺ کی روشنی کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس کا افتتاح وفاقی وزیربرائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی جناب انیق احمد نے کیا جبکہ کانفرنس کی صدارت وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر نوید اختر نے کی۔ پروفیسر ڈاکٹر سلیم طارق خان سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول مہمان اعزاز تھے اور پروفیسر ڈاکٹر احمد محمد الشرقاوی سالم چیئرمین شعبہ علوم قرآنیہ جامعہ ازہر مصر اور پروفیسر ڈاکٹرمحمد سعد صدیقی جامعہ پنجاب لاہور نے کلیدی خطبات ادا کیے۔ وفاقی وزیربرائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی جناب انیق احمد نے کہا کہ اسلام میں اقدار بہت اہم موضوع ہے۔ اقدار ایک قدر کی بنیاد اور حدود ہے۔ دین مکمل ہونے کا دعویٰ کسی رسول نے نہیں کیا سوائے رسول اللہﷺ کے۔ اللہ کے نبی ﷺنے جو کام کیا وہ اخلاق بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے آپﷺ کو اخلاق عظمیٰ پر فائز کیا۔ انہوں نے کہا کہ 8ہجری فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺنے اسوہ حسنہ کا اعلیٰ کردار ادا کیا، آپ ﷺنے فرمایا آج رحمت کا دن ہے اور سب کو آزاد سے سرفراز کر دیا۔ ہمارا دین ہمیں اقدار سیکھانا ہے۔ قرآن پاک کی سینکڑوں آیات موجود ہیں جن میں اقدار کا ذکر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے احسان کرنا اقدار میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیاء بھی اقدار کا حصہ ہے کیونکہ حیاء دار انسان معاشرے کی زینت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جید علماء کرام موجود ہیں جن سے ہم اقدار کے بارے میں بہت علم حاصل کر سکتے ہیں۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر نوید اختر نے کہا کہ جامعہ اسلامیہ دینی تعلیم کی نشرو اشاعت کی ایک صدی کی طویل تاریخ اور اعزاز رکھتی ہے۔ 1875میں مدرسہ صدر علوم دینیات کی بنیاد رکھی گئی۔ جو بعد میں ترقی کے مدارج طے کرتا ہوا جامعہ عباسیہ کہلایا۔جس کا مقصد علوم اسلامیہ کی تعلیم و ترویج اورتحقیق کا فروغ تھا۔ برصغیر پاک و ہند کے جید علماء کرام نے جامعہ اسلامیہ میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔آج فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عرابیک اسٹڈیز 7شعبہ جات پر مشتمل ہے جہاں پر عربی، فقہ و شریعہ، حدیث، اسلامیات، قرآنی تعلیمات، ٹرانسلیشن اسٹڈیز،عالمی مذاہب اور بین المذاہب ہم آہنگی کے شعبہ جات قائم ہیں۔اس کے علاوہ سیرت چیئر تعلیمات ِ نبوی ﷺ کا فریضہ بھر پور انداز میں سرانجام دے رہی ہے۔ دسویں بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں وفاقی وزیر اور ملکی اور غیر ملکی جامعات سے مندوبین کی آمد ہمارے لیے باعث اعزاز ہے۔ سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر سلیم طارق خان نے کہا کہ معاشروں کے اخلاقی انحطاط کے عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہم تو ایک امت واحدہ ہیں جس کا مقصد اعلیٰ اخلاقیات کو دنیا میں نافذ کرنا ہے نہ کہ اخلاقی پستی اورتنزلی کا شکار ہو جائیں۔ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عرابیک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانا ہر مسلمان کا شیوہ حیات ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کے مطابق عصر حاضر میں رہنمائی حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں سیرت چیئر 1987میں قائم ہوئی۔ ڈائریکٹر سیرت چیئر پروفیسر ڈاکٹر حافظ شفیق الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرت چیئر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سیرت نبوی ﷺ میں ریسرچ سیل اور دعوتی و تبلیغی سنٹر مختلف سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہے تاکہ نبی آخری الزماں ﷺ کے ابدی اور آفاقی پیغام کی روشنی میں انسانیت کے لیے فلاح دارین کے حصول کی رہنمائی کی جا سکے۔ سیرت چیئر اب تک نو بین الاقوامی سیرت کانفرنس، ایک بین الاقوامی قرآن کانفرنس، ایک قومی قرآن کانفرنس،دو قومی سیرت کانفرنس اور تین خطبات بہاول پور کروا چکی ہے جن میں ڈاکٹرمحمد حمید اللہ، ڈاکٹر محموداحمد غازی اور ڈاکٹر سید سلمان ندوی شرکت فرما چکے ہیں۔ دسویں بین الاقوامی کانفرنس میں جامعہ ازہر مصر اور پاکستان کی جامعات سے 100سے زائد مندوبین شریک ہیں۔ افتتاحی سیشن کے بعد پہلا متوازی سیشن پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم پنجاب یونیورسٹی لاہور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور مہمان اعزاز ڈاکٹر احسان الرحمن غوری شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور تھے۔ دوسرے متوازی سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر احمد محمد الشر قاوی سالم چیئرمین علوم قرآنیہ جامعہ ازہر مصرنے کی۔ مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عبد القیوم صہیب ڈائریکٹر اسلامک ریسرچ سینٹر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور مہمان اعزاز ڈاکٹر مقبول حسن گیلانی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ٹائمز انسٹی ٹیوٹ ملتان تھے۔ تیسرے متوازی سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی جامعہ پنجاب لاہور نے کی۔مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن انسٹی ٹیوٹ آف سدرن پنجاب ملتان اور مہمان اعزاز ڈاکٹر حبیب الرحمن ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز فیصل آباد تھے۔چوتھے سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی پنجاب یونیورسٹی لاہور نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس لودھی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان مہمان خصوصی اور ڈاکٹر عبد الغفار ڈائریکٹر سیر ت چیئر یونیورسٹی آف اوکاڑہ نے مہمان اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی۔

دوسرے روز اختتامی سیشن میں کمشنر بہاول پور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کمشنر بہاول پور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرت النبی ﷺ پر کانفرنس کا انعقاد ایک مثبت اقدام ہے کیونکہ عصر حاضر میں بہت سے چیلنجز موجو دہیں جن کو سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت اللعالمین بن کر آئے اور انہوں نے ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا جہاں ہر انسان کو اس کی قدر و منزلت کے بارے میں آگاہی دی گئی۔نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے یونیورسٹیاں اپنا کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں جدید ذرائع ابلاغ سوشل میڈیا کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مسلمان پیدا ہوئے ہیں جب ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں تو ہم پر بہت سے فرائض لازم ہیں ان میں ایک دین اسلام کو پھیلانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ دوسرے روز کے تمام سیشنز عباسیہ کیمپس میں منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفار چیئرمین شعبہ فقہ اینڈ شریعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے کی اورسید لیاقت علی گیلانی ڈائریکٹر ریونیو اس سیشن کے مہمان خصوصی جبکہ اللہ بخش کلیار ممبر اسلامی نظریاتی کونسل مہمان اعزازتھے۔دوسرے سیشن کی صدارت ڈاکٹر ضیاء الرحمن چیئرمین شعبہ قرآنی اسٹڈیز نے کی اور ڈاکٹر غسان صالح عبد المجیدانٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد مہمان خصوصی تھے۔اختتامی خطاب میں ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عربیک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نوید اختر کی جانب سے مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے فوکل پرسن پروفیسر ڈاکٹر حافظ شفیق الرحمن ڈائریکٹر سیرت چیئر نے کانفرنس کی سفارشات پیش کیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com