ماضی کی جامعہ اسلامیہ اورآجکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی قیادت میں سات ہزار برس قدیم ہاکڑہ تہذیب کے آثار قدیمہ کی دریافت اور ہاکڑہ ہیریٹیج میوزیم کا عظیم منصوبہ

تحریر محمد اسد نعیم زیر نگرانی شہزاد احمد خالد ڈائریکٹر پریس میڈیا اینڈ پبلیکیشنز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

ماضی کی جامعہ اسلامیہ اور آجکی
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور برصغیر پاک و ہند عظیم دانش گاہ ہے۔ آج یہ یونیورسٹی عالمی سطح پر ان جامعات کی فہرست میں شامل ہے جہاں طلباء وطالبات کی تعداد ستر ہزار سے ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ جامعہ بلاشبہ خطہ بہاولپور کے باسیوں کیلئے ایک عظیم علمی میراث اور اثاثہ ہے۔


انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی قیادت میں اس یونیورسٹی نے ہر میدان میں فقیدالمثال ترقی کی ہے۔ عالمی جامعات کی رینکنگ ہو یا تحقیق کا شعبہ جامعہ اسلامیہ ہر جگہ منفرد اور ممتاز نظر آتی ہے۔ ایک شعبہ جو ابھی یونیورسٹی سے باہر ابھی نظروں سے اوجھل ہے آرکیالوجی یا آثار قدیمہ ہے جس میں اسقدر کام ہوا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئ ہے۔ دنیا کی نامور جامعات سے ماہرین بہاولپور کی جانب کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ دراصل ڈاکٹر اطہر محبوب خود سات ہزار برس پرانی ہاکڑہ تہذیب میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ کسی بھی محفل میں شریک ہوں وہ ہاکڑہ تہذیب ، قدیم سرسوتی دریا ذمینی پلیٹوں اور زلزلوں کے باعث دریاوں کے رخ بدلنے گھاگرہ دریا کے خاتمے اور صحرائے چولستان میں گنویری والا کے نیچے دبے سات ہزار برس پرانے قدیم صنعتی شہر کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ اسی جذبے اور لگن کی بدولت انہوں نے ڈاکٹر رفیق مغل جو نامور ماہر آثار قدیمہ ہیں کے ساتھ ملکر حکومت سے چولستان کے تاریخی آثار کی دریافت اور کھدائی کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر شاریہ انجم ڈائریکٹر کلچرل ہیریٹیج سنٹر کی سربراہی میں ڈاکٹر خلیل احمد، فہیم مشتاق اور معظم درانی کی ٹیم دن رات اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ہاکڑہ ہیریٹیج میوزیم بھی بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب شعبہ آرکیالوجی اور شعبہ انتھراپالوجی یعنی شعبہ علوم بشریات بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ گذشتہ دنوں
کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ کے شعبہ اثار قدیمہ کے پروفیسر ڈاکٹر کیمرون پیٹری دو روزہ دورے پر بہاولپور تشریف لائے ۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور یہاں کے ثقافتی ورثہ اور اثار قدیمہ کی حالت سے آگاہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔ اس لیے صف اول کی جامعہ کیمبرج کے پروفیسر کو معاونت کے لیے بلایا گیا ۔ پروفیسر کیمرون پیٹرس جنوبی ایشیاء کے اثار قدیمہ پر تحقیق کر چکے ہیں اور اپنے حالیہ پروجیکٹ میں جنوبی ایشیاء کے اثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے خواہاں ہیں ۔
اپنے پہلے دن کے قیام میں انہوں نے شعبہ تاریخ اثار قدیمہ ، بشریات اور دیگر شعبہ جات کے استاتذہ اور طلباء کے ساتھ خطاب میں اپنے پروگرام کا تعارف کروایا اور پہلے ہونے والے سروے کے نتیجے سامعین کے سامنے پیش کیے اور پھر انہوں نے اپنے اگلے لائحہ عمل کے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج اور تفصیلات کو کمپیوٹر کے ساتھ جوڑ نے کے عمل کو کمبیرج یونیورسٹی جبکہ فیلڈ سروے کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور معاونت کرے گی ۔ اسی طرح دونوں جامعات مل کر اس ورثے کو محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے ۔ شام کو کلچر اینڈ ہر یٹیج ریسرچ سینٹر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی ٹیم، پروفیسر ڈاکٹر شاریہ انجم ، وقار مشتاق اور معظم در آنی اطہر لاشاری کے ہمراہ مہمانوں کو نور محل کے دورے پر لے گئے جہاں پر ان کو نور محل میوزیم ، نور محل کی چھت اور طے خانہ دکھایا ۔ حال ہی میں بننے والی انڈس کوئین کے ماڈل پر بھی ہونے والا حالیہ کام دکھایا گیا۔ پروفیسر کیمرون پیڑی ان سب کاموں کو دیکھ کر تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ نور محل کا لائٹ اینڈ ساونڈ شو بھی مہمان کی توجہ کا مرکز رہا ۔ رات کو بغداد الجدید کے شعبہ فائن آرٹس میں آئی یو بی دوست نے ایک بہترین کلچرل نائٹ کا اہتمام کیا جس میں ڈاریکٹر سلمان قریشی اور پرنسپل ماریہ انصاری نے اپنے اپنے شعبہ جات کا تعارف کروایا اور یہاں کی آرٹ اور ٹورازم سے متعارف کروایا ۔ معزز مہمان سسٹین ایبل ٹوارزم کے طلباء طالبات نے پاکستان کے مقامی گانے اور جھومر ، آتن، چانپ اور جمالو کے خوبصورت رقص دیکھ کر نہ صرف لطف اندوز ہوئے ۔اگلے دن پروفیسر کیمرون اور افیفا خان کو
اسلامیہ یونیورسٹی کی ٹیم وقاص مشتاق اور معظم درانی چولستان لے گئے ۔ ڈیراور سے آگے گنویری والا جاتے ہوئے پروفیسر کو یہاں کے ٹوبے ، خانہ بدوش ، خوبصورت رتیلے ٹیلے دکھاتے ہوئے قدیم ترین اثار گنویری والا کے ٹیلوں پر لے جایا گیا ۔ پروفیسر کیمرون اس کی موجودہ حالت پر پریشان ہوئے اور غیر قانونی کھدائی کے حوالے سے ایکشن کے خواہاں ہیں کہ مقامی حکومت اس پر ایکشن لے اور اس غیر قانونی کھدائی سے اس عظیم ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ وہاں سے واپسی پر کیمرون کو شاہی قبرستان جو کہ ریاست بہاولپور کے نوابین کی آخری آرام گاہیں اور مستورات کے مقبرے دکھائے گئے ان کی تعمیر و تزین نے پروفیسر کو حیران کر دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ قلعہ دراوڑ جو کہ چولستان کے ماتھے کا جھومر ہے کو دیکھ کر پروفیسر کے تاثرات تھے کہ بہت چھوٹے چھوٹے قلعے عربوں نے بہت بہتے طریقے سے سنبھالے ہیں اس پر توجہ کی ضرورت ہے نہیں تو یہ ورثہ مہندم ہو جائے گا ۔ اس میں حکومت اور عوام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئےولستان کے اس سفر میں سر سبز و شاداب چولستان مہمان کے لیے حیران کن تھا حالیہ بارشوں نے چولستان کی شکل ہی بدل دی ہے ۔واپسی پر پروفیسر کیمرون نے وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں وائس چانسلر اور تمام ڈین کو اپنے پروگرام کے اغر اض و مقاصد بتائے ۔ انہوں نے بتایا کہ ” اسلامیہ یونیورسٹی کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیاء کے ورثے کو محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی ۔ جس کی توثیق وائس چانسلر جناب اطہر محبوب نے کردی ۔ سٹیلائیٹ امیج اور ٹیکنالوجی کا کام کیمبرج جبکہ گروانڈ سروے کا کام اسلامیہ یونیورسٹی کرے گی ۔ اسی تقریب میں سابقہ تربیتی ورکشاپ کے شرکاء میں سر ٹیکفکٹ بھی تقسیم کیے گئے ۔ وائس چانسلر نے مہمان کو اعزاز کی اسناد اور کتابیں تحفہ کیں ۔ رات کو مہماں کے اعزاز میں وائس چانسلر نے الوداعی عشائیہ دیا اس موقع پر ڈپٹی رجسٹرار فاطمہ مظاہر نے مہمانوں کو مقامی دستکاری سے کے دیدہ زیب نمونے پیش کیے ۔ مہمانوں کو ریلی رگھا گھرے ، اجرک ، کرتیں ، کھسے رکھے گئے تاکہ مہماں کو مقامی ثقا فت اور دستکاری سے آگاہی دی گئی ۔
ڈی پی آو بہاولپور عبادت نثار بھی مہمان اعزاز کے طور پر مدعو تھے۔ پروفیسر کیمرون نے ان سے غیر قانونی کھدائی کا ذکر کیا جس پر ڈی پی او صاحب نے اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں معززین شہر میڈیا کے نمائندے اور اساتذہ کرام شریک ہوئے۔ مہمانوں نے اپنے تا ثرات میں کہا کہ آثار قدیمہ کے سابقہ سروے ہماری رہمنائی کے لیے ہیں مگر وہ جدید نہ ہیں ہمیں چولستان کے لیے ازسر نو جانچنا ہے اس کو نئے بہتر طریقے سے نئے جدید طریقوں سے ہم آہنگ کرنا ہے جس میں سٹیلائیٹ اہم ہے تا کہ ان نقشوں کو کوئی بھی سرچ کر کے ان جہگوں پر پہنچ سکے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سروے کے سٹیلائیٹ اور باقی سارے کاموں میں کیمبرج یونیورسٹی تعاون کرے گی جبکہ گروانڈ سروے میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اپنا کردار ادا کرے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو سابقہ سروے ہے اس سروے میں اور گروانڈ سروے میں کافی فرق ہے اور آخری سروے 1977 میں کیا گیا جبکہ پہلا 1907 میں کیا گیا تھا ۔ ان دونوں سروے کے اندر چار سو سے زیادہ سائیٹ جبکہ سٹیلائیٹ امیج اور ان کے اندر 1000 سے زیادہ سٹیلائیٹ ہیں اور ان میں کافی فرق ہے اور ان میں سائیٹ کا جو فرق ہے وہ نقشہ جات کے اوپر اور گروانڈ کے اوپر کافی فرق ہوتا ہے اس فرق کو ختم کرنے کے لیے آپ اپنا کردار ادا کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں ۔ امید کی جا رہی ہے کہ ہاکڑہ تہذیب کے اثار پر وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی قیادت میں شروع کیا گیا کام اس یونیورسٹی کی عالمی پہچان بنے گا ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com