بہاول پور لٹریری اینڈ کلچر ل فیسٹیول، دھرتی کے رنگ، جامعہ اسلامیہ کے سنگ

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اطہر لاشاری

ثقافت کسی بھی معاشرے میں وہاں کے رہنے والے لوگوں کی سماجی زندگی کا آئینہ ہوتی ہے۔ بہاولپور ثقافتی اعتبار سے صدیوں پر محیط خوبصورتیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ بہاولپور میں قائم جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی جامعہ اسلامیہ تعلیم و تحقیق کے ساتھ ساتھ اس خطے کے آرٹ اور کلچر کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اس خطے کے ادب اوریہاں کی ثقافت تہذیب، آرٹ اینڈ کلچر کے خوبصورت رنگوں کو اجاگر کرنے کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپو رمیں دوسرے سالانہ بہاولپور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ اس فیسٹیول کے آغاز سے کئی دن قبل ہی بہاولپور سمیت پورے جنوبی پنجاب اور ملک بھر میں اس کی کوگونج سنائی دینے لگی۔ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے فیسٹیول میں مختلف نوعیت کی بہت سی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا تھا جس کے باعث یونیورسٹی کا بغداد الجدید اور عباسیہ کیمپس میں چار دن تک مسلسل میلے کا ساماں رہا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں منعقدہونے والے دوسرے سالانہ بہاو ل پور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول میں ویسے تو ادب اور کلچر کے حوالے سے بہت سی سرگرمیاں منعقد کی گئی تھیں لیکن بغدادا لجدید کے مرکزی آڈیٹوریم میں ہونے والے ثقافتی پروگرام نے پورے چار روز ہ میلے کو اپنے خوبصورت رنگوں دھرتی کی سروں مقامی تہذیب کی عکس بندی لوک گیتوں کی لوریوں اور سرائیکی جھمر کی چادر پہنا دی۔ 31مارچ کی رات کو اسلامیہ یونیورسٹی کے بغدادالجدید کیمپس میں موجود مرکزی آڈیٹوریم میں کلچر ل اینڈ میوزیکل ایونٹ کااہتمام کیا گیا

۔جس میں طلباء وطالبات،اساتذہ،یونیورسٹی ملازمین اور بہاولپور سے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس خوبصورت تقریب کا آغاز الغوزہ کی خوبصورت دھن سے کیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے معروف الغوزہ نواز استاد غلام فرید کنیرہ نے سرائیکی کی لوک دھنوں کے سر بکھیر ے تو وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور معزز مہمانوں سمیت طلباء بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس خطے کے پرامن انسان دوست اور مہمان نواز رویوں میں یہاں کی شاعری اور موسیقی کو اہم مقام حاصل ہے۔ الغوزہ کی دھن پر ڈیرہ غازی خان سے آئے ہوئے کھوسہ گروپ نے سرائیکی ثقافتی جھمر پیش کی تو ہال کا سماں ہی بدل گیا۔ سرائیکی جھمر شروع ہوئی تو ہال میں موجود طلباء کی بڑی تعداد نے بھی الغوزہ کی دھن پر ہاتھ اٹھا ئے اور محو رقص ہو گے۔

یوں پورا ہال ہی سرائیکی ثقافتی جھمر کے رنگ میں رنگ گیا۔ ایونٹ میں روہی چولستان سے تعلق رکھنے والے معروف لوک گلوکار آڈو بھگت نے حضرت خواجہ غلام فرید کی کافیاں اور لوک گیت گا کر سماں باند ھ دیا۔ آڈو بھگت کی انگلیاں، یک تارے کی تار اور چپڑیوں کے ساتھ لگے گنگرو ں کو چھیڑنے لگیں تو نوجوان طلبابھی مقامی ثقافتی رقص میں مست ہو گئے۔ دھرتی کا مقامی آرٹ جب اسکے باشندوں کے ذریعے سامنے آتا ہے تو دیکھنے، سننے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔کیونکہ یہ خطہ آج سے 6 ہزار سال پہلے ہاکٹرہ تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ ہزاروں سالوں سے ملتان، اوچ، پتن منارہ، اور سوئی ویہارجیسے تاریخی مقامات کی تہذیب اور ثقافت کے اثرات آج بھی اس خطے پر نمایاں ہیں۔ پروگرام جاری ہی تھا کہ اچانگ ایک 80سالہ بزرگ ثقافتی لباس میں ملبوس سٹیج پر نمودار ہواایک ہاتھ میں اونٹی کی مہار تھامے ڈھول کی سریلی تھاپ پر پیر پر پیر رکھتا سامنے آیاتو ہال تالیوں سے گونج اٹھا کیونکہ وہ بزرگ ملتان سے آئے ڈاچی ڈانس گروپ کا سربراہ تھا۔ڈھول اور بین اپنے سر تبدیل کیے تو بزرگ کے ساتھ ساتھ اس کی ڈاچی بھی ناچنے لگی۔ اس گروپ نے مقامی رقص کو مختلف انداز میں پیش کیا توہال میں موجود سینکڑوں لوگوں پر سحر طاری ہو گیا۔

ثقافتی ایونٹ میں لاہور،کراچی، اسلام آباد سمیت ملک بھر سے ائے ہوئے مہمان ڈاچی ڈانس کی پرفارمنس کو بہت پسند کیا گیا۔ بہاولپور ڈویژن سے ملحقہ روہی چولستان میں رہنے والے بھیل کمیونٹی کے لوک فنکار ہزاروں سالہ قدیم مارواڑی موسیقی اور لوک رقص کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ مارواڑی لوک موسیقی اور رقص کے لیے ڈتو لعل گروپ کو ایونٹ میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے روائتی سازوں کی دلکش دھنوں پر مارواڑی اور سرائیکی لوک گیت پیش کیے اور ہاضرین سے خوب داد وصول کی۔ اسی طرح لاہور اور گوجرانولہ سے آئے ڈھول گروپ کی پرفارمنس نے بھی پروگرام کو چار چاند لگا دیے۔ ڈھول کی تھاپ ہو اور بھنگڑا یا جھمر نا ہو تو یہ ممکن نہیں۔ تقریب میں پاکستان کی نامور سرائیکی گلوکارہ راحت بانو ملتانیکر نے حضرت خواجہ غلام فرید کا کلام گایا تو لوگوں پر روحانیت کا خوبصورت احساس طاری ہو نے لگا۔راحت بانو ملتانیکر نے ”آ چُنوں رل یار پیلھوں پکیاں نی وے“ جیسی خوبصورت کافی سمیت دیگر کافیاں اور لوک گیت گائے تو وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اور دیگر مہمانوں نے دل کھول کر داد دی جبکہ ہال میں موجود سینکڑوں طلبا کی تالیوں کی گونج نے ثقافتی ایونٹ میں مزید رنگ بھر دیا۔

وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور انجینئر پروفیسر ڈاکٹرا طہرمحبوب کا ویہ ویژن ہے ہم کہ ترقی کرنے ہے لیکن مقامی لوگوں کو ساتھ ملاکر آگے بڑھنا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی موجودہ انتظامیہ اس ویژن پر عمل پیرا ہے کہ جامعہ میں ہونے والی زرعی تحقیق کا فائدہ سب سے پہلے یہاں کے کاشتاروں کو ہونا چاہیے۔یونیورسٹی میں جہاں تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں شاندار کام کیا جا رہا ہے وہیں اس خطے کے ادب، فنون لطیفہ اور خوبصورت ثقافت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔بہاوپور سمیت وسیب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جنا ب وائس چانسلر کا بنیادی طور پر تعلق بھلے سرائیکی وسیب سے نہیں ہے لیکن وہ اس دھرتی کے کلچر اور ثقافتی رنگوں کو نہ صرف بے پناہ پسند کرتے ہیں بلکہ اسکو پروموٹ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تقریب کی نظامت کے فرائض ایسوسی ایٹ لیکچرار شعبہ سرائیکی اطہر لاشاری اور سرائیکی ویسب کے نامور لوک داستان گو ش شاعر ادیب اور کمپئر عارف ملغانی نے ادا کیے۔بہاولپور لڑیری اینڈ کلچرل فیسٹیول میں خصوصی طور پر کلچر پروگرام کا انعقاد وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کاہی خیال تھا جسے فائن آرٹ سوسائٹی کے ایڈوائزرفرجاد فیض اور ایسوسی ایٹ لیکچرار شعبہ سرائیکی اطہر لاشاری نے اپنی ٹیم کے ساتھ ملکر سرانجام دیا۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہرمحبو ب نے اس خطے کے آرٹ اور کلچر کو اجاگر کرنے اور اسے پروموٹ کرنے کے لیے فائن آرٹ سوسائٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ آرٹ، کلچر اینڈ ہیرٹیج سنٹربھی قائم کر دیئے ہیں۔جنکا مقصد اس خطے کے آثار قدیمہ، ہزاروں سالہ قدیم تہذیب کی باقیات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سرائیکی وسیب کے لوک ادب اور یہاں کے کلچر کی ترویج ہے۔ بہاولپور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول کا بنیادی مقصد جہاں اس خطے کے ادب، لوک ادب، کلچر اور آرٹ کی مختلف شکلوں کو اجاگر کرنا تھا وہیں سمسٹر سسٹم میں دن رات محنت کرنے والے طلباء کو ذہنی اور جسمانی تفریح بھی مہیا کرنا تھی۔ اس ایونٹ سے جہاں طلباء میں خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے وہیں مختلف امور سرانجام دینے کی مشق نے ان میں انتظامی قابلیت بھی پیدا کی ہے۔ پورے بہاولپور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول کی طرح کلچرل ایونٹ کو بھی طلباء اور شہری حلقوں نے بھرپور انداز میں سراہا ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com