بہاول نگر ڈویژن میں خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم

تحریر : سعدیہ ایوب

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم جاری ہے۔اس دوران 9 ماہ کی عمر سے 15 سال تک کی عمر کے 9کروڑ سے زائد بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے،بچوں کو لگائے جارہے ہیں۔
خسرہ کا شمار مہلک امراض میں ہوتا ہے. گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں خسرہ سے ہونے اموات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے.
2017ء کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں خسرہ کے 6.7 ملین کیسز رپورٹ ہوئے اور تقریباً 1لاکھ 10 ہزار اموات ہوئیں .جبکہ سال 2019ء میں صرف 7 ماہ کے اندر تقریباً 3 لاکھ 64 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے.
مندرجہ بالا خطرناک صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے انسداد خسرہ و روبیلا مہم کا آغاز کیا ہے. جوکہ 27 نومبر 2021ء تک جاری رہے گی.مہم کے دوران 9ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے. حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس مہم کے دوران پورے پاکستان میں تقریباً 90 ملین بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے. اس ضمن میں 3 لاکھ 86 ہزار میڈیکل پروفیشنلز اور 1 لاکھ 43 ہزار سوشل موبیلائزرز, وزارت صحت حکومت پاکستان, یونیسف اور عالمی ادارہ صحت کی مدد سے سکولوں, گھروں اور صحت کے مراکز پر جا کر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائیں گے. اسی طر ح صوبہ پنجاب میں بھی 9 ماہ سے 15 ماہ سال تک کے عمر کے 4 کروڑ سے زائد بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے. پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع بہاولنگر میں بھی تقریباً 6لاکھ 24 ہزار بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے. ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بہاولنگر کے سی- ای- او کی زیر نگرانی خسرہ و روبیلا مہم کےلیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہےجو ضلع بھر میں جاری خسرہ کی ویکسینیشن کی مانیٹرنگ کرر ہی ہے.اس ضمن میں محکمہ صحت بہاولنگر کے حکام کو ڈپٹی کمشنر کپٹین ریٹائرڈ محمد وسیم کی معاونت حاصل ہے .
اس مہم کا باقاعدہ آغاز ملک بھر میں 15 نومبر سے ہو چکا ہے اور جو کہ 27نومبر تک جاری رہے گی۔ قومی مہم میں خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات کے ساتھ ساتھ پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے بھی پلائے جارہے ہیں۔دو ہفتوں تک جاری رہنے والی اس قومی مہم میں محکمہ صحت کے 386000 اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جن میں 76 ہزار ویکسینیٹرز، اور ایک لاکھ 43 ہزار سوشل موبلائزر شامل ہیں۔یہ قومی مہم نجی اور سرکاری مراکزِ صحت، عارضی ویکسینیشن سنٹرز اور تعلیمی اداروں میں کی جا رہی ہے۔اس مہم کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مہم میں رکھے گئے ہدف میں آدھے بچے اسکولوں کے طلبہ و طالبات ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر محکمہ صحت کے افسران و پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر محکموں کا عملہ متحرک انداز میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ تاکہ معصوم بچے ان مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات مہم کے دوران محکمہ ِصحت کے افسران اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر مفکر اس مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے اشتراک سے خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے 3524ماہر افراد کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں اور 6603سوشل موبلائزرز فیلڈ میں جا کر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح 348یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز اور 445ویسٹ مینجمنٹ کے فوکل پرسنز بھی خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں. خسرہ ور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم کے دوران صحت، ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے کارکنان کے ساتھ ساتھ والدین اپنے بچوں کوخسرہ روبیلا کا حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com