آئین شکنی / خانہ جنگی

تحریر۔۔۔۔۔ آصف عمران تیجہ

اپریل کا مہینہ اپنے ملک پاکستان میں کیسا رہا، اس کی کچھ جھلکیاں آپ لوگوں کی نظر کر رہا ہوں۔
آئین سے روگردانی:
رمضان شریف سے چند دن قبل سابقہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے، اپوزیشن کی طرف سے تحریک کو کامیاب اور حکومت کی طرف سے ناکام بنانے کی تیاری شروع ہو گئیں ، تحریک کی کامیابی کے لیے دو تہائی جبکہ ناکامی کے لیے اس سے کم اکثریت درکار تھی۔ آخر کار قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا ،جو کہ ووٹنگ کے بغیر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب نے ملتوی کر دیا ، پھر اجلاس ہوا اور پھر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گیا ، عدالت کے حکم پر اجلاس ہوا، اجلاس صبح سے شروع ہو کر رات گئے تک جاری رہا، لیکن ووٹنگ کرانے سے تاحد کوشش اجتناب کیا جاتا رہا ، اس رات میں مری میں موجود تھا ، میری طرح سارا پاکستان ٹیلی ویثرن کے ساتھ جڑ کر بیٹھا تھا، اور سب کو یہی خطرہ لاحق تھا کہ اگر ایسے ہی حالات جاری رہے تو ملک میں مارشل لاء لگ جائے گا یا ایمرجنسی نافذ ہو جائے گئی ، آخر کار رات کے وقت قانون کے حرکت میں آنے کی وجہ سے حکومتی ارکان نے بیرونی سازش اور مداخلت کو جواز بنا کر بائیکاٹ کر دیا اور اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے ، (بائیکاٹ امریکہ میں موجود پاکستانی سفیر کے بھیجے گئے ایک مراسلے کو قرار دیا گیا ، جو کہ 7 مارچ کو بھیجا گیا، لیکن اس کا اظہار 24 مارچ کو کیا گیا اور اگر آپ کہیں تو مراسلے کی حقیقت اور قانون میں اس کی کیا حیثیت ہے ، اس کی وضاحت اپنی آئندہ تحریر میں پھر کبھی آپ کی خدمت میں پیش کروں گا) تو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب نے ووٹنگ کرانے سے انکار کر دیا ، قائم مقام اسپیکر نے ووٹنگ کرائی اور تحریک عدم اعتماد کا پراسس مکمل ہوا، نئے قائد ایوان / وزیر اعظم کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے امیدوار آئے ، حکومت کی طرف سے شاہ محمود قریشی صاحب اور اپوزیشن کی طرف سے شہباز شریف صاحب نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے۔ ووٹنگ کا مرحلہ آیا تو ڈیپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے آئینی زمہ داری نبھانے سے انکار کر دیا، استفعی دیا اور ایوان سے چلا گیا ، ساتھ ہی حکومتی ارکان بھی سازش اور مداخلت کا بہانہ بنا کر بائیکاٹ کر کے واک آؤٹ کر گئے۔ قائم مقام اسپیکر نے الیکشن کروایا۔ وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں آیا، اب نئے منتخب وزیر اعظم کے حلف کا موقع آگیا ، آئین کے مطابق وزیر اعظم کا حلف صدر پاکستان نے لینا ہوتا ہے۔ لیکن صدر پاکستان نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حلف لینے سے انکار کر دیا ، اور بالا آخر قائم مقام صدر نے حلف لیا۔ نئی حکومت نے نئی کابینہ تشکیل دی، اور پھر کابینہ کی حلف برداری کا موقع آ گیا، لیکن صدر پاکستان نے پھر ایک دفعہ آئین سے روگردانی کرتے ہوئے کابینہ سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔
صوبہ پنجاب :
اب ذکر کرتے ہیں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا، جس میں اس دوران کیا کچھ ہوتا رہا۔ وزیر اعلی عثمان بزدار صاحب کا استعفی وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنے پاس اسلام آباد بلا کر گورنر پنجاب چوہدری سرور کی موجودگی میں طلب کیا ، عثمان بزدار نے استعفی دیا ، گورنر پنجاب نے منظور کیا۔ اور اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم صاحب نے گورنر پنجاب چوہدری سرور صاحب کو صدر صاحب کے ذریعے برطرف کر دیا۔ نئے وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے اسپیکر شپ چھوڑ کر حکومت کی طرف سے وزرات اعلی کے لیے جبکہ اپوزیشن کی طرف سے حمزہ شہباز نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے۔ ووٹنگ کا مرحلہ آیا جو کہ آئین کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں ڈیپٹی اسپیکر نے ایوان کی کاروائی چلانی ہوتی ہے ، دوست محمد خان مزاری ایوان کی کاروائی کے لیے آئے تو معزز ارکان اسمبلی نے ان پر حملہ کر دیا ، بال نوچے ، تھپڑ مارے اور گریبان (کالر) کھینچا ، اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی ہوا ، پھر فل سیکورٹی میں اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی لیکن حکومتی ارکان نے وہ ہی بیرونی سازش اور مداخلت کو جواز بناتے ہوئے بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ لیکن ووٹنگ کا مرحلہ پھر بھی ہوا ، اور نئے وزیر اعلی کا انتخاب ہوا، اور اب حلف کا مرحلہ آیا تو آئین کے مطابق نو منتخب وزیر اعلی کا حلف گورنر پنجاب نے لینا ہوتا ہے، لیکن گورنر صاحب نے آئین شکنی کرتے ہوئے حلف لینے سے انکار کر دیا ، عدالت نے ڈائریکشن دی ، عملدرآمد نہیں ہوا، عدالت میں پھر پٹیشن دائر ہوئی لیکن پھر کچھ نہ ہوا اور پھر عدالت نے کل اسپیکر قومی اسمبلی کو نئے منتخب وزیر اعلی کے حلف لینے کے لیے پابند کیا۔ اس فیصلے پر وکلاء کمیونٹی بھی تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے جو کہ کسی بھی طور پر ہم وکلاء کے مفاد میں نہیں ہے۔ (یاد رہے کہ دو دفعہ معزز عدالت عالیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے موجودہ صدر پاکستان اور گورنر پنجاب نے بھی آئین اور قانون شکنی کی)۔ اور آج ہی جب نو منتخب وزیر اعلی کا حلف اٹھایا جانا تھا ، موجودہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ صاحب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو مراسلہ بھیج دیا کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کا استعفی آئین اور قانون کے مطابق نہیں ، لہذا اسے مسترد کیا جاتا ہے، جس پر عثمان بزدار صاحب نے اپنے آپ کا دوبارہ وزیر اعلی تصور کرتے ہوئے 9 بجے کابینہ کا اجلاس بلا لیا۔ اس طرح آج اپنے ملک پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے اس وقت دو وزیر اعلی ہیں۔ اللہ پاک خیر فرمائے، آئندہ کیا ہونے والا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بہتر جانتی ہے۔

بد اخلاقی کے واقعات :
اوپر والے تمام واقعات میں اخلاق تو کہیں بھی نظر نہیں آتا لیکن اب میں مزید کچھ ایسے واقعات کی طرف آپ کی توجہ دلاتا ہوں جو اس بابرکت اور پاک مہینے میں اپنے ملک میں رونما ہوئے، قومی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس اور کاروائیوں میں ہمارے منتخب نمائیندوں نے آپس میں گالم گلوج ، مار کٹائی ، دھکم پیل اور نارے بازی کا آزادانہ استعمال کیا۔ پرویز الٰہی صاحب تک نہ محفوظ رہ سکے، جبکہ پیٹیآئی کی ایک ایمپیاے ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہے ، پورے ملک میں تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینے والوں کے خلاف غدار غدار کے نعرے لگے، احتجاج ہوا۔ میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں نور عالم خان ، افضل چن اور پیپلز پارٹی کے ایک رکن غالبا کھوکھر صاحب کے ساتھ بد مزگی پیدا ہوئی جس سے کافی زیادہ بد نظمی کا مظاہرہ ہوا۔ ایم کیو ایم کے ایک ایمایناے خلاف ائیر پورٹ پر بد تمیزی کی گئی، شیخ رشید صاحب نے کراچی اور سابقہ وزیر اعظم نے پشاور جلسے میں عوام کو بھڑکایا ، اکسایا اور بالاآخر کل مسجد نبوی والا واقعہ پیش آگیا ، مسجد نبوی کے اندر اب کی حکومت کے سربراہان اور وزراء موجود تھے جن پر چور چور اور غدار غدار کے نعرے لگاتے ہوئے عوام نے ان کو پکڑنے کی کوشش کی ، لیکن سیکورٹی سخت ہونے کی وجہ سے ناکامی ہوئی۔ اور کل ہی اسلام آباد میں سحری کے وقت سابقہ ڈئپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری پر کچھ لوگوں نے حملہ کیا ۔ یہ سب واقعات رونما ہونے کے بعد اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کا مستقبل کیا نظر آرہا ہے ، اور ہم بحثیت قوم اخلاق کے کس لیول پر کھڑے ہیں۔ اور کیا ہم واقعی اس قدر اخلاقی گراوٹ کے شکار ہوچکے ہیں کہ ہمیں مسجد نبوی کے تقدس کا خیال ہے اور نہ ہی اپنے ملک کی عزت کا۔ ہم سیاست کو بیچ میں لاکر آپس کی دشمنی اور نفرت کا بیج بو رہے ہیں۔ یہ تمام واقعات اپنے ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک تو ہیں ہی ہیں ، اس ریاست کے لیے بھی بہت نقصان دہ ہیں۔ ہم بحیثیت قوم تباہی اور زوال کی طرف جا رہے ہیں۔ آپ سب یقینا سمجھ اور فہم والے پاکستانی شہری ہیں ، خود سے سوچیں اور اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا یہ سب برا نہیں ہو رہا ،خدا نخواستہ ہم خانہ جنگی کی طرف نہیں جا رہے، ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف نہیں جا رہے ، بہتری کی بجائے تبائی کی طرف نہیں جا رہے ؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com