عظیم لوگ کون ہوتے ہیں؟

تحریر۔۔۔۔۔۔ ملک صفدر ضیاء
جب ستر کی دہائی میں جنگل سے جاتے ہوئے ایمبولینس کا راستہ کچھ ڈاکوؤں نے روکا تو اس ایمبولینس میں ایک جوان لڑکی کی میت تھی۔ ڈرائیور خود ایدھی صاحب تھے۔ لڑکی کی ماں نے اتر کر ڈاکوؤں کو بتایا کہ اندر میری جوان بیٹی کی میت موجود ہے جو ٹی بی کی وجہ سے وفات پا گئی ہے۔ ڈرائیور کوئی اور نہیں بل کہ ایدھی صاحب خود ہیں۔ ایمبولینس میں اس وقت ایک نرس بھی موجود تھی۔۔۔
تمام ڈاکو گھوڑے سے نیچے اتر آئے اور ڈرائیور کو غور سے دیکھا۔ تصدیق کرنے کے بعد سب ڈاکوؤں نے ایدھی صاحب کے ہاتھ چوم کر کہا” ہم جانتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے تو کوئی ہماری لاش اٹھانے نہیں آئے گا لیکن اس وقت آپ ضرور آئیں گے اور ہماری قبر پر مٹی بھی ڈالیں گے” ۔ یہ کہہ کر ان ڈاکوؤں نے سو روپے ایدھی فاؤنڈیشن کیلئے دیئے اور احترام کے ساتھ ایمبولینس کو روانہ کیا۔۔ ایمبولینس میں موجود نرس بلقیس ایدھی صاحبہ تھیں۔
کیا کمال لوگ تھے کیا کردار تھا کہ ڈاکو بھی ہاتھ چوم لیا کرتے تھے۔ یہ ہوتے ہیں عظیم لوگ جو انسان کو انسان سمجھتے ہیں جو رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر سوچتے ہیں اور ان کا عمل ان کی سوچ کی گواہی چیخ چیخ کر دیتا ہے۔۔۔

جو نہیں سوچتے کہ یہ کام تو حکومت کی زمہ داری ہیں۔ جو نہیں سوچتے کہ ہمارے بچے، ہمارا گھر، ہماری پرسنل لائف، ہماری خواہشات، ہمارا آرام اور سکون کیوں خراب ہو؟ جو بچوں کی دیکھ بھال کرتے وقت یہ تفریق نہیں کرتے کہ کون سا بچہ جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں اور ان معصوموں کا جائز ناجائز ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ لوگ عظیم ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں بل کہ بد بخت اور نافرمان جوانوں کے بزرگوں کو بھی گلے سے لگا لیتے ہیں۔
عبد الستار ایدھی صاحب آغاز میں شادیوں پر جا کر برتن دھوتے تھے، دودھ اور اخبار فروخت کرتے تھے اور حاصل ہونے والی آمدن کا بیشتر حصہ فلاحی کاموں میں خرچ کر دیتے تھے۔ ایک ٹوٹی پھوٹی وین لے کر ایمبولینس سروس کا آغاز کیا تھا جس کا انجن بھی خراب تھا۔ ایک حج پر جانے کیلئے ستر کی دہائی میں ان کی ایمبولینس کو بھی ساتھ لے جایا گیا اور چار ہزار روپے دیئے گئے۔ بلقیس ایدھی صاحبہ کے مطابق” ایدھی صاحب نے ان پیسوں کو استعمال نہیں کرنے دیا بل کہ ان پیسوں سے ادویات خرید لیں اور حاجیوں کی مدد کرنے کیلئے کچھ سامان بھی۔ میں نے کچھ کپڑے خریدنے کی فرمائش کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ ہم اس وقت صرف اچار لے کر گئے تھے اور راستے میں روٹیاں لے کر گزارا کر لیتے تھے” ۔
کیا کمال لوگ تھے؟ ایک ایمبولینس کا ڈرائیور بنا ہوا تھا اور دوسری نرس تھی۔ لیکن حاصل ہونے والی آمدن کو انسانیت پر خرچ کیا جا رہا تھا۔۔۔

نومولود بچوں کو کچرے میں پڑا دیکھا تو شدید تکلیف میں مبتلا تھے۔ کہتے تھے” ان بچوں کا کیا قصور ہے جنہیں کتے نوچ کھاتے ہیں” ۔ پھر” جھولا پروجیکٹ” شروع کیا اور اپنے ہر کیمپ کے باہر جھولا لگا کر کہا” اگر آپ ان بچوں کو نہیں رکھ سکتے تو باہر اس جھولے میں ڈال کر چلے جائیں۔ آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔ یہ بچے ہمارے ہوں گے” ۔
کچھ لوگوں نے کہا” تم جہنم میں جاؤ گے” تو اس پر جواب دیا گیا” ہم تمہارے والی جنت میں نہیں جانا چاہتے۔ ہمیں تمہاری جنت نہیں چاہیے” ❤️
یہ ہوتے ہیں عظیم لوگ جو ان بچوں کو اپنی ولدیت دیتے ہیں جنہیں ناجائز کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

بس یہ ہوتے ہیں عظیم لوگ جو جانتے ہیں کہ حکومت وقت سے اگر سوال ہوگا تو سوال تو ہم سے بھی پوچھا جائے گا کہ جب کوئی انسان بھوک سے مر رہا تھا تو تم اس وقت کہاں تھے؟
تمہارے پڑوس میں معصوم بچے پانی سے روزہ افطار کر رہے تھے اور تم نے دستر خوان سجا رکھا تھا؟
تمہارے غریب رشتے دار قربانی والے دن سبزیاں کھا رہے تھے اور تم نے پورا جانور اپنے فریج میں رکھ دیا تھا؟
تمہارے قریب ہی کوئی شخص علاج نہ ہونے کی وجہ سے مر گیا اور تمہارے اکاؤنٹ بھرے ہوئے تھے؟
تم انسانوں کی بستی میں انسان کیوں نہیں تھے؟
تمہارے پڑوس میں یتیم بچیاں کنواری تھی اور تم اپنی بچیوں کو لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے بیاہ رہے تھے؟ تم مجرے دیکھ کر لاکھوں روپے لٹا رہے تھے؟
تمہارے قریب ہی یتیم بچے بھوک سے بلک بلک کر رو رہے تھے کیا تم بہرے تھے؟

بس عظیم لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف اور صرف انسان بن کر سوچتے ہیں۔
صحرا میں چشمے کا کردار ادا کرتے ہیں، اندھیرے میں جگنو بن جاتے ہیں اور تپتی دھوپ میں ہرے بھرے کھیت کھلیان جیسے لوگ، بیماروں کیلئے شفا بن جاتے ہیں۔ بے سہاروں کیلئے سہارا بن جاتے ہیں، نابینا لوگوں کیلئے آنکھوں کا کردار ادا کرتے ہیں، سماعت سے محروم لوگوں کیلئے کان بن جاتے ہیں، یتیموں کیلئے والدین بن جاتے ہیں۔
” میرا نامہ اعمال تو دیکھ میں نے بس انساں سے محبت کی ہے” ۔
سلامت رہیں
"بلقیس ایدھی کے نام”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com