حکیم الامت علامہ اقبال کا خواب اور ہماری عصری ذمہ داریاں: فکرِ اقبال کی آفاقیت

فکرِ اقبال کی آفاقیت، خودی کا پیغام اور عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داریاں
روبینہ کوثر (کالم نگار)

خصؤصی تحریر : کالم نگار روبینہ کوثر

اقبال ڈے اور خودی کا پیغام

اسلام آباد میں 21 اپریل کے موقع پر علامہ محمد اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ”خودی“ اور بیداری کا درس دے کر فکری انقلاب کی بنیاد رکھی، ان کی فکر محض شاعری نہیں بلکہ ایک مکمل نظریۂ حیات ہے جو آج بھی اتنی ہی معنویت رکھتا ہے جتنا اپنے دور میں رکھتا تھا۔

فکرِ اقبال کی آفاقیت اور عصرِ حاضر

کالم نگار کے مطابق اقبال کا پیغام کسی ایک خطے یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی فکری نظام ہے، ان کا تصور “شاہین” بلند پروازی، خودداری اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے، جو آج کے نوجوانوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جب قومیں علم اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کر رہی ہیں۔

ریاستی اداروں اور فکری بیداری کی ضرورت

مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سرکاری اداروں اور پالیسی سازوں کو اقبال کے افکار کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ نوجوان نسل علم، عمل اور قومی شعور کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر سکے، اور پاکستان عالمی سطح پر ایک مضبوط شناخت قائم کر سکے۔

مردِ مومن اور عملی زندگی

اقبال کا فلسفہ ” مردِ مومن“ محض نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی طرزِ زندگی ہے جو علم، محنت اور اخلاقی مضبوطی پر مبنی ہے، آج کے دور میں اس پیغام کو ادارہ جاتی نظم و ضبط، محنت اور قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔

مضمون کے مطابق ہمیں اقبال کے خوابوں کے پاکستان کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، جہاں انصاف، خودداری اور علم کو بنیاد بنایا جائے، اور نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کر کے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں