سعودی عرب میں مناسکِ حج کا آغاز، لاکھوں عازمین منیٰ پہنچنے لگے
یوتھ ویژن نیوز : (قاری عاشق حُسین سے)سعودی عرب میں فریضۂ حج کی ادائیگی کا آغاز ہو گیا ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں عازمین نے منیٰ میں خیموں کے شہر کا رخ کر لیا ہے۔ یومِ ترویہ (8 ذوالحجہ) پیر 25 مئی کو عازمین کی منیٰ آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور دن بھر جاری رہا، جہاں وہ پیر کی شب قیام کریں گے۔
سعودی حکام کے مطابق بیرون ملک سے 15 لاکھ سے زائد عازمین حج کی ادائیگی کے لیے مملکت پہنچ چکے ہیں، جبکہ لاکھوں مقامی عازمین بھی ان کے ساتھ شامل ہیں، جس سے حجاج کی مجموعی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
منیٰ میں خیموں کے شہر کا رخ
پیر کی صبح سے ہی عازمین مسجد الحرام میں طواف قدوم (استقبالیہ طواف) کی ادائیگی کے بعد وادی منیٰ کی طرف روانہ ہونا شروع ہو گئے۔ سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق تمام فیلڈ اور آپریشنل تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ عازمین کو ان کے خیموں تک پہنچانے کے لیے ایک مربوط نظام نافذ کیا گیا ہے جس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے ذریعے کوالٹی سروسز کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ہزاروں عازمین پیدل جبکہ لاکھوں بسوں اور گاڑیوں کے ذریعے مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچے۔ ہزاروں سعودی سیکیورٹی اہلکار اور رضاکار عازمین کی رہنمائی اور سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ خواتین رضاکاروں کو بھی اس موقع پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ خواتین حاجیوں کو راستہ دکھانے اور مدد فراہم کرنے میں آسانی ہو۔
جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ نظام
سعودی حکومت نے اس سال حج کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا ہے۔ تمام عازمین کو نسک (Nusk) کارڈز دیے گئے ہیں جن پر بار کوڈ موجود ہے جو ان کے کوآرڈینٹس محفوظ کرتا ہے۔
مرکزی اور ذیلی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جو کہ بھیڑ کے انتظام، نقل و حمل اور دیگر خدمات کی بروقت نگرانی کر رہے ہیں۔ عازمین کی روانی اور سیکیورٹی کے لیے حرمین شریفین کے ارد گرد 10,000 سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ شہر کی فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر بھی تعینات ہیں۔
صحت کی سہولیات اور ڈرونز کا استعمال
سعودی وزارت صحت نے رواں سال پہلی بار عازمین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال شروع کیا ہے۔ یہ ڈرونز ہنگامی حالات میں ادویات اور طبی نمونوں کی ترسیل کا کام کریں گے۔ سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل کے مطابق حج کے دوران 44 ہسپتالوں اور 160 سے زائد ہیلتھ سینٹرز میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں 5,000 سے زائد بستروں کا انتظام کیا گیا ہے۔
غزہ اور مقبوضہ علاقوں سے 2,000 سے زائد زخمی اور بیمار فلسطینی بھی اپنی صحت یابی کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔ سعودی وزارت صحت نے ان کے لیے خصوصی طبی انتظامات کیے ہیں۔ عازمین کو گرمی سے بچانے کے لیے سڑکوں پر واٹر مسٹ فین اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
مناسک حج کا پہلا دن
حج کا پہلا دن (یومِ ترویہ) عازمین منیٰ میں قیام کرتے ہیں جہاں وہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ منیٰ کو خیموں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی عارضی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ہر سال لاکھوں خیمے نصب کیے جاتے ہیں جن میں تمام جدید سہولیات موجود ہوتی ہیں۔
عازمین نے مسلسل تلبیہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی کی دعا مانگی۔ حج کا دوسرا اور سب سے اہم دن 9 ذوالحجہ (26 مئی بروز منگل) کو ہوگا جب عازمین میدان عرفات میں وقوف کریں گے۔ اس کے بعد مزید مناسک جاری رہیں گے جو 11 ذوالحجہ تک مکمل ہوں گے۔
سعودی حکام کے مطابق اس بار بھی حج کے تمام انتظامات عالمی معیار کے مطابق کیے گئے ہیں اور حاجیوں کو پرامن ماحول میں اپنے فریضے کی ادائیگی کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔