ایران امریکا کشیدگی پر پاکستان کا ردعمل، دفتر خارجہ کا اہم بیان

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا

یوتھ ویژن نیوز :( اسلام آباد) پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔

پاکستان کا کشیدگی کم کرنے پر زور

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے میں پیش آنے والی حالیہ پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی اپیل

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے تمام متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے باہمی اعتماد اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

علاقائی خودمختاری اور امن کی حمایت کا اعادہ

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

سفارت کاری ہی پائیدار امن کا مؤثر راستہ

ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ تنازعات کا دیرپا حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

پس منظر

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال پر متعدد ممالک تحمل اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

پاکستان نے حالیہ کشیدگی پر کیا مؤقف اختیار کیا؟

پاکستان نے تمام فریقین سے تحمل اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل کرنے پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کیا ہے؟

یہ ایک سفارتی فریم ورک ہے جس کے تحت متعلقہ فریقین نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان نے کس سے اپیل کی ہے؟

پاکستان نے ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ فریقین سے فوری کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان خطے میں کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے؟

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مؤقف کیا ہے؟

پاکستان تنازعات کے پرامن حل، علاقائی استحکام اور سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں