کوئٹہ میں ریسٹورنٹ مالک ہاشم نورزئی قتل کیس حل، 16 کروڑ روپے کے کاروباری تنازعے کا انکشاف
یوتھ ویژن نیوز : (کوئٹہ) بلوچستان پولیس نے ریسٹورنٹ مالک ہاشم نورزئی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واقعہ 16 کروڑ روپے کے کاروباری تنازعے کا نتیجہ تھا۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک مرکزی ملزم کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کا مؤقف
ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کے مطابق مقتول کے ساتھ مالی معاملات پر تنازع پیدا ہونے کے بعد دو سگے بھائیوں، حکمت اللہ نورزئی اور سعد اللہ نورزئی پر قتل کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم حکمت اللہ نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم کیا، جبکہ اس کا بھائی سعد اللہ تاحال مفرور ہے۔
قتل کیسے کیا گیا؟
پولیس کے مطابق ملزمان نے مقتول کی گاڑی کا تعاقب کیا اور مناسب موقع ملنے پر اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ہاشم نورزئی جان کی بازی ہار گئے۔
تحقیقات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
تحقیقات کے دوران پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور جدید تکنیکی ذرائع کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری عمل میں لائی۔
پولیس کے مطابق میر خان اور دلاور خان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان مبینہ طور پر مقتول کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات مرکزی ملزمان تک پہنچاتے رہے۔
مزید تحقیقات جاری
بلوچستان پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق کیس سے متعلق مزید شواہد سامنے آنے پر قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
سوال: ہاشم نورزئی کون تھے؟
جواب: وہ کوئٹہ میں ایک ریسٹورنٹ کے مالک تھے۔
سوال: پولیس کے مطابق قتل کی وجہ کیا تھی؟
جواب: ابتدائی تحقیقات کے مطابق 16 کروڑ روپے کا کاروباری تنازعہ۔
سوال: کتنے ملزمان گرفتار ہوئے؟
جواب: پولیس کے مطابق حکمت اللہ، میر خان اور دلاور خان گرفتار ہیں، جبکہ سعد اللہ مفرور ہے۔
سوال: تحقیقات میں کون سے شواہد استعمال کیے گئے؟
جواب: سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور جدید تکنیکی ذرائع۔
سوال: کیا تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں؟
جواب: نہیں، پولیس کے مطابق مزید تحقیقات اور مفرور ملزم کی تلاش جاری ہے۔