وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر کے تاریخی ریونیو ہدف حاصل کرنے پر افسران کو مبارکباد
یوتھ ویژن نیوز : (ڈاکٹر ثاقب ابراہیم سے) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسران نے ملاقات کی، جس میں مالی سال 2025-26 کے دوران ریونیو وصولیوں، جاری اصلاحات اور آئندہ مالی سال کے اہداف پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے گزشتہ مالی سال میں 12.957 کھرب روپے کے تاریخی محصولات کا ہدف عبور کرنے پر ایف بی آر کے افسران اور تمام عملے کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی حکومت کی معاشی اصلاحات اور ادارے کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو سہولت ملی اور برآمدات کے فروغ میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز اور افسران اسی جذبے سے کام کرتے ہوئے رواں مالی سال 15 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف بھی حاصل کریں گے۔
وزیراعظم کا ایف بی آر کی کارکردگی کو خراج تحسین
وزیراعظم نے اس نمایاں کارکردگی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، معاشی ٹیم کے دیگر ارکان اور ایف بی آر کے افسران کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسمگلنگ کی روک تھام اور ایف بی آر افسران کو سکیورٹی فراہم کرنے پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کے نفاذ میں کردار ادا کرنے والے افسران کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران ایف بی آر میں جاری اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن اور مؤثر ٹیم ورک کی بدولت ادارہ ریکارڈ ٹیکس وصول کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کو اولین ترجیح
وزیراعظم نے بتایا کہ ایف بی آر کے امور پر وہ خود ہر ماہ دو جائزہ اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے کیونکہ ادارے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ فارمیشنز میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے اور ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ریونیو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان، کاروباری اور صنعتی برادری کو سہولیات کی فراہمی بھی ایف بی آر کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں اصلاحات کی رفتار مزید تیز کی جا رہی ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی اصلاحاتی عمل کا مرکزی محور ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کا نیا آپریٹنگ ماڈل کم سے کم انسانی مداخلت پر مبنی ایک جدید، ڈیجیٹل اور فیس لیس ٹیکس نظام پر استوار ہوگا۔
کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروسز میں بہتری کے لیے کمیٹی تشکیل
وزیراعظم نے پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کی ترقی اور سروس اسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔
اس موقع پر ایف بی آر کے افسران نے ادارے پر خصوصی توجہ دینے اور ان کی کارکردگی کو سراہنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مختلف علاقوں کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔
کراچی اور لاہور لارج ٹیکس پیئر یونٹس کی کارکردگی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے جون 2026 کے دوران 528 ارب روپے جبکہ لاہور لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے 261 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایئرپورٹس پر کسٹم ڈیوٹی کی وصولیوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملاقات میں شامل شخصیات
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی شریک تھے۔