کراچی حملہ، پاکستان کا افغان ناظم الامور سے شدید احتجاج
یوتھ ویژن نیوز : پاکستان نے کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر افغانستان کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق گزشتہ شب افغان ناظم الامور کو وزارت خارجہ بلا کر کراچی حملے پر سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) دیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
افغانستان میں بھی اسی نوعیت کا احتجاج
اسی نوعیت کا احتجاجی مراسلہ پاکستان کے افغانستان میں سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارت خارجہ کے حکام کے حوالے کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ احتجاج اس حقیقت کی روشنی میں کیا گیا کہ کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں افغان شہری ملوث تھے۔
کراچی رینجرز کیمپ پر حملے کی تفصیلات
واضح رہے کہ 27 جون (ہفتہ) کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک 6 میں واقع پاکستان رینجرز (سندھ) کے ایک کیمپ پر بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے خوارج نے دہشت گردانہ حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کرنے کے بعد حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ تاہم رینجرز کے جوانوں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا۔
تین دہشت گرد ہلاک، ایک افغان گرفتار
کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار شدہ دہشت گرد کی شناخت افغان شہری عثمان کے نام سے ہوئی ہے، جس نے تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ افغانستان کے شہر جلال آباد سے پاکستان آیا تھا اور اس کے ساتھ عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق نے حملے میں معاونت کی۔
گرفتار دہشت گرد کے مطابق جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا اور ان کا گروپ حملے سے سات روز قبل پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرایا گیا تھا، جبکہ عبدالہادی نے وزیرستان سے اسلحہ فراہم کیا۔
تین رینجرز جوان شہید
اس حملے میں رینجرز کے تین جوان شہید جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے حملہ آوروں کو جماعت الاحرار سے منسلک خوارج قرار دیتے ہوئے اسے بھارتی پراکسی تنظیم کا ایک بزدلانہ دہشت گردانہ عمل قرار دیا۔
پاکستان نے حملے کے فوری بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا تاکہ کسی اور دہشت گرد کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان کا موقف اور مطالبہ
دفتر خارجہ کے مطابق اس حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ پاکستان نے افغان حکام کو سنگین تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے افغان سرزمین اور افغان شہریوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ اس کی سرزمین پر کوئی بھی ایسا حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔
جوابی کارروائیاں
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے آپریشن غضب للحق کے تحت انٹیلیجنس بیسڈ گراؤنڈ آپریشنز اور درست فضائی کارروائیوں میں 29 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ یہ کارروائیاں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
28 جون کو باجوڑ ضلع میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جس میں سینئر کمانڈر خان فاروش (عرف زبل) سمیت تین دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد 28-29 جون کی درمیانی شب سرحدی علاقوں میں دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کے خلاف درست فضائی کارروائیاں بھی کی گئیں۔