سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے دو ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا

سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے دو ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد ) – سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے دو ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواستیں خارج کر دی گئیں۔

جسٹس شہزاد ملک کے اہم ریمارکس

جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایم کیو ایم کا کراچی پر کنٹرول تھا، اس لیے گواہ خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ زبیر چریا کا اعترافی بیان موجود ہے، لیکن عبدالرحمان بھولا کا نہیں۔ اگر بھتے کا معاملہ تھا تو فاروق ستار اور دیگر کی بریت کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا؟ کسی سیاسی جماعت کا سیکٹر انچارج تبدیل ہونا جرم نہیں۔

جسٹس ملک نے مزید کہا کہ سانحہ بلدیہ دل دکھانے والا واقعہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ نااہلی مالکان کی تھی یا کسی اور کی؟ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین اس واقعے سے پہلے بھی ایسی تقاریر کرتے تھے، اور زبیر چریا کے بارے میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ ایم کیو ایم کا رکن تھا۔

عدالت کے دیگر ارکان کے اہم ریمارکس

مزید برآں، جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ فیکٹری میں کیمیکل استعمال ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کو مارنا مقصد تھا، لیکن استغاثہ کا کیس ہی یہ نہیں ہے۔

جسٹس ملک نے استفسار کیا کہ فیکٹری کا دروازہ لاک کرنے پر کون سا جرم بنتا ہے؟ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ملزمان کا مقصد بھتہ لینا تھا، ورکرز کو مار کر انہیں کیا ملنا تھا؟

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا پس منظر

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے 259 افراد جاں بحق اور 59 زخمی ہوئے تھے۔ ملزمان پر فیکٹری میں آگ لگانے اور لوگوں کو زندہ جلانے کا الزام تھا۔ یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حلقوں میں سخت ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں