امریکا نے ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد ایران میں اہداف پر حملے کر دیے

امریکا نے ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد ایران میں اہداف پر حملے کر دیے

یوتھ ویژن نیوز : (واشنگٹن) – امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عمان کے ساحل کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرنے کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ حملے ایران کے فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ "مجھے عظیم فوج نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے ہمارے انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔”

ہیلی کاپٹر گرنے کی تفصیلات اور پائلٹوں کی بازیابی

واقعہ منگل 9 جون کی صبح تقریباً 3 بجے مقامی وقت کے قریب پیش آیا، جب امریکی فوج کا اے ایچ-64 اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب علاقائی پانیوں میں گشت کر رہا تھا۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹ بحفاظت ریسکیو کر لیے گئے۔

امریکی بحریہ کے ایک بغیر عملے کی سطحی ڈرون (ڈرون بوٹ) نے دونوں اہلکاروں کا سراغ لگایا اور تقریباً دو گھنٹے پانی میں رہنے کے بعد انہیں ساحل تک پہنچایا۔ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ دونوں پائلٹ محفوظ ہیں اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر ایک ایرانی "کامیکاز” ڈرون سے تصادم کے بعد گرا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا ایرانی ڈرون نے جان بوجھ کر اسے نشانہ بنایا تھا۔

امریکی حملوں کی تفصیلات

صدر ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹے بعد ہی امریکا نے بدھ 10 جون کی صبح سویرے ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیے۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔

سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ حملے بلا جواز ایرانی جارحیت کا متناسب جواب ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی افواج چوکس ہیں اور بلا جواز ایرانی جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں ہرمزگان صوبے کے مشرقی علاقے، سیریک شہر، جزیرہ قشم اور بندرعباس میں دھماکے سنے گئے۔ ایران کے مطابق ان حملوں میں ایک کمیونیکیشن ٹاور اور دو آبی ذخائر کو نقصان پہنچا ہے۔

ایران کی جوابی کارروائی اور عالمی ردعمل

ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی اہداف کی طرف میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ IRGC کے مطابق انہوں نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیٹری اور اردن میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ عمان میں ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان دعووں کو امریکی اور اردنی حکام نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

کویت اور قطر نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ بحرین میں فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا، جبکہ مقامی حکام نے بتایا کہ ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

اسرائیل پر ایران کے حملے اور اسرائیلی جوابی کارروائی

واضح رہے کہ اس سے قبل اتوار کو اسرائیلی فضائیہ نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک اسرائیل کی طرف 30 کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، جنہیں اسرائیلی دفاعی نظام نے روک دیا تھا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

ٹرمپ کا مؤقف اور سفارتی مذاکرات پر اثرات

صدر ٹرمپ نے حملوں کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ "ہیلی کاپٹر پر حملے کا جواب بہت سخت ہونا چاہیے۔” تاہم انہوں نے اس واقعے کو کم کرنے کی بھی کوشش کی اور کہا کہ چونکہ پائلٹ بچ گئے ہیں، یہ کوئی بہت بڑا معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "تم نے اپنے میزائل داغ لیے، بس کرو۔ میز پر واپس آؤ اور معاہدہ کرو۔”

ان حملوں نے 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی عبوری جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ علاقائی تنازع کے خاتمے کے لیے معاہدے کے "آخری مراحل” میں ہے۔ تاہم ان حملوں نے مذاکرات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی حملوں کے جواب میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "امریکہ کی جانب سے کوئی بھی حملہ بغیر جواب نہیں جانے دیا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "میدان جنگ میں اپنی شکستوں کے باوجود امریکہ نے ہمارے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہماری طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا خطرے کو بغیر جواب نہیں جانے دیں گی۔”

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ متعدد قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ بغیر کانگریس کی منظوری کے جنگ میں الجھنا آئین کے خلاف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں