سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ-ایران مذاکرات کا آغاز، جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش

سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ-ایران مذاکرات کا آغاز، جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش

برگن اسٹاک (یوتھ ویژن نیوز) – پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہو گیا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے ان مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بھی موجود ہیں۔

امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں اور ان کے ہمراہ وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی ہیں۔

مذاکرات سے قبل جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم کے ہمراھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تنازع کے سفارتی حل کے لیے مکمل اختیارات دے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت تمام امور حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

امریکی نائب صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین

جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس موقع پر بہترین مذاکراتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں مزاحیہ انداز میں کہا: "میری زندگی کے دو انتہائی اہم لوگ ہیں — ایک بھارت سے (میری اہلیہ) اور دوسرے پاکستان سے (فیلڈ مارشل عاصم منیر)۔”

انہوں نے مزید کہا: "میں نے پچھلے تین ماہ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جتنی بات کی ہے، شاید ہی کسی سے کی ہو۔ اگر ان کی حکمت عملی نہ ہوتی تو شاید ہم آج یہاں نہ ہوتے۔”

انہوں نے فیلڈ مارشل کو ایک عظیم ملٹری لیڈر اور بہترین سفارت کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں شعبوں میں خود کو ثابت کیا ہے۔

وینس نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے عظیم دوست ہیں اور مذاکرات میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔

پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا: "صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ جن کی وجہ سے آج یہ اجلاس ہو رہا ہے۔ ہماری اچھی گفتگو ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ نتائج خیز معاملات سامنے آئیں گے۔”

انہوں نے امریکی نائب صدر، قطری وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے میں یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔ پاکستان اس عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا تاکہ طے پانے والی مفاہمتوں کو عملی شکل دی جا سکے۔

مبصرین کے مطابق اس پیش رفت کو خطے کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

برگن اسٹاک میں پہلے راؤنڈ کے مذاکرات کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں پاکستان کی ثالثی کے تحت امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے درمیان 45 منٹ تک تفصیلی بات چیت ہوئی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے راؤنڈ میں لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری ذخائر اور آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے خدوخال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان واضح اور کھل کر گفتگو ہوئی، مذاکرات کا دوسرا مرحلہ 2 گھنٹے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگا۔

وفود کی تفصیلات اور مذاکرات کا پس منظر

یہ مذاکرات برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہو رہے ہیں، جو بین الاقوامی سفارتی اجلاسوں کے لیے ایک محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی وفد میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ شامل ہیں۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں، جن کے ہمراہ وزیرخارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی، ترجمان اسماعیل بقائی، نائب وزیر تیل حمید بورڈ اور دیگر اعلیٰ اقتصادی و سیکیورٹی حکام شامل ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ممکنہ طور پر مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار

پاکستان اور قطر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر 17 جون کو دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تنازع کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ پہلا باضابطہ تکنیکی اجلاس ہے جو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو رہا ہے۔

مذاکرات کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر پیش رفت کا جائزہ لینا، اعتماد سازی کے اقدامات آگے بڑھانا اور مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں