پشاور کسٹمز کی کارروائی، 1.16 ارب روپے کا اسمگل شدہ سامان اور گاڑیاں ضبط

peshawar-customs-seizes-1.16-billion-rupees-smuggled-goods-vehicles
محمد عاقب نمائدہ خصوصی

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عاقب قریشی سے) – کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) پشاور نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، مؤثر نگرانی اور فیلڈ انفورسمنٹ کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اسمگلنگ کے خلاف اپنی مہم میں نمایاں تیزی لائی ہے۔ ان مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں اسمگل شدہ اشیاء اور نان ڈیوٹی پیڈ (NDP) گاڑیوں کی بڑی کھیپ ضبط کی گئی، جن کی مجموعی تخمینی مالیت تقریباً 1.163 ارب روپے ہے۔

پشاور کسٹمز کی ان کارروائیوں نے اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورکس کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور قومی خزانے کو ہونے والے ممکنہ نقصان کو روکا ہے۔

رپورٹنگ مدت کے دوران نمایاں ضبطگیاں

کلکٹریٹ نے اسمگلنگ کی متعدد بڑی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے درج ذیل اہم ضبطگیاں کیں:

گھریلو سامان ظاہر کیے گئے ایک کنٹینر سے 6,330 کلوگرام سیلولوز ایسیٹیٹ ٹاؤ برآمد کیا گیا۔ یہ کیمیکل مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی اسمگلنگ سے حکومت کو بڑے ٹیکس نقصان کا سامنا تھا۔

ایک بیڈفورڈ ٹرک سے 4,052 کلوگرام مردانہ و زنانہ ملبوسات کا کپڑا ضبط کیا گیا۔ یہ کپڑا غیر ملکی ساختہ تھا اور بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے ملک میں داخل کیا جا رہا تھا۔

ایک دوسرے بیڈفورڈ ٹرک سے 7,380 سلیوز سگریٹ اور 1,100 کلوگرام گولڈ گٹکا برآمد کیا گیا۔ سگریٹ اور گٹکا کی اسمگلنگ سے نہ صرف محصولات متاثر ہوتے ہیں بلکہ عوامی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

تھاکوٹ، ہزارہ میں ایک اسوزو ٹرک سے غیر ملکی ساختہ اور نان ڈیوٹی پیڈ اشیائے خورونوش کی بڑی کھیپ ضبط کی گئی۔

لگژری گاڑیاں بھی ضبط

ان کارروائیوں کے علاوہ پاکستان کسٹمز نے تین لگژری نان ڈیوٹی پیڈ (NDP) گاڑیاں بھی ضبط کیں، جن کی تخمینی مالیت تقریباً 2 کروڑ 55 لاکھ روپے ہے۔ یہ گاڑیاں بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے ملک میں داخل کی جا رہی تھیں۔

اسمگلنگ کے خلاف حکمت عملی اور مستقبل کی منصوبہ بندی

یہ کامیاب کارروائیاں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی حکمت عملی، مؤثر آپریشنل رابطے اور کسٹمز افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح مظہر ہیں، جنہوں نے خطے میں اسمگل شدہ اشیاء کی غیر قانونی نقل و حرکت کو مؤثر انداز میں روکا۔

پاکستان کسٹمز اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، جدید رسک مینجمنٹ نظام اور سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف قومی معیشت اور سرکاری محصولات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں بلکہ ملک میں قانونی تجارت کے فروغ اور تاجروں کے لیے مساوی کاروباری مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) پشاور اپنی انفورسمنٹ حکمت عملی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اسمگلنگ کی ہر قسم کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائیاں جاری رکھے گا اور ملکی سرحدوں کے تحفظ، قومی معیشت کے استحکام اور منصفانہ و قانونی تجارت کے فروغ کے لیے پاکستان کسٹمز کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں