ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شمولیت حکومت کی اولین ترجیح، شزہ فاطمہ

ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شمولیت حکومت کی اولین ترجیح، شزہ فاطمہ

اسلام آباد (یوتھ ویژن نیوز) – وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کو ڈیجیٹل معیشت کا فعال حصہ بنانے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے، جبکہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق کم کرنے کے حوالے سے دنیا کی تیز ترین پیش رفت ریکارڈ کی ہے۔

او آئی سی وزارتی کانفرنس سے خطاب

وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام خواتین سے متعلق او آئی سی کی 9ویں وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت کی ڈیجیٹل پالیسی کا بنیادی مقصد خواتین کو جدید ٹیکنالوجی، مالیاتی سہولیات اور ڈیجیٹل مواقع تک مساوی رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ قومی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے جی ایس ایم اے (GSMA) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں خواتین اور مردوں کے درمیان موجود صنفی فرق کم کرنے میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

صنفی ڈیجیٹل فرق میں نمایاں کمی

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب انہوں نے وزارت کا منصب سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، جو 2025 میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا، جبکہ 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ مزید کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

خواتین میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ

شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو حکومت کی ڈیجیٹل شمولیت کی پالیسیوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب خواتین ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم حاصل کریں، روزگار کے مواقع پیدا کریں، ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کریں اور کامیاب کاروباری شخصیات بنیں۔

خواتین کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی، جس سے خواتین کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون اور وزیراعظم کی قیادت میں ملک بھر کی خواتین میں ایک کروڑ مفت سم کارڈز بھی تقسیم کیے تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

مصنوعی ذہانت میں خواتین کی قیادت ضروری قرار

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ خواتین کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سیکیورٹی، مشین لرننگ، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن جیسے شعبوں میں بھی فیصلہ سازی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین کے تجربات اور نقطہ نظر کو مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں شامل نہ کیا گیا تو صنفی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔

حکومت کا ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کا عزم

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ہر لڑکی کو ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی تک رسائی، ہر خاتون کو محفوظ ڈیجیٹل شناخت اور مالیاتی اکاؤنٹ پر مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کاروباری افراد کو ڈیجیٹل مارکیٹس، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع تک مساوی رسائی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کا کردار مزید مضبوط ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں