تحریک صوبہ بہاول پور: اہم حقائق اور تاریخی پس منظر

تحریک صوبہ بہاول پور: اہم حقائق اور تاریخی پس منظر
تحریک صوبہ بہاول پور: اہم حقائق اور تاریخی پس منظر

خصؤصی تحریر : ۔ ڈاکٹر شہیر رضوی

بہاول پور (یوتھ ویژن نیوز) – 7 اکتوبر 1947 کو ریاست بہاول پور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد بہاول پور ایک خودمختار ریاست کے طور پر قائم رہا اور بعد ازاں اپریل 1951 میں اسے باقاعدہ صوبے کا درجہ دیا گیا۔ لیکن 1955 میں ون یونٹ نظام نافذ ہونے پر بہاول پور کی صوبائی حیثیت ختم کر کے اسے مغربی پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔

جب 1970 میں ون یونٹ ختم کیا گیا تو سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حیثیت بحال کر دی گئی، لیکن بہاول پور کو دوبارہ صوبہ نہ بنایا گیا۔ اس فیصلے نے خطے میں شدید عوامی ردعمل اور تحریک صوبہ بہاول پور کو جنم دیا۔

تحریک کا پس منظر اور عوامی مطالبات

بہاول پور کے عوام کا مؤقف تھا کہ چونکہ بہاول پور ایک الگ ریاست اور بعد ازاں صوبہ رہا ہے، اس لیے ون یونٹ کے خاتمے پر اس کی سابقہ حیثیت بحال ہونی چاہیے تھی۔ اس مطالبے کے حق میں سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل آواز اٹھائی جاتی رہی۔ تحریک کا مرکز فرید گیٹ اور بیکانیری دروازہ بن گئے، جہاں روزانہ جلسے، جلوس اور احتجاج ہوتے تھے۔ عوام کا ایک ہی نعرہ تھا: "ہمارا صوبہ بحال کرو!”

24 اپریل 1970ء: ایک المناک دن

24 اپریل 1970ء کو بہاول پور میں ایک بڑا پُرامن احتجاج منعقد ہوا، جس میں مرد، خواتین، بزرگ اور نوجوان شریک تھے۔ حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں فائرنگ کے واقعات پیش آئے، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ دو افراد — حافظ محمد شفیق اور عظیم داد پوترہ — جان کی بازی ہار گئے۔ یہ دونوں شخصیات بعد ازاں "شہدائے بہاول پور” کے طور پر یاد کی جانے لگیں اور آج بھی تحریک صوبہ بہاول پور کی تاریخ میں علامتی حیثیت رکھتی ہیں۔

آج کا تناظر اور مطالبہ بحالی صوبہ

آج پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کے دوران بہاول پور کے عوام بھی اپنی تاریخی اور آئینی شناخت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بہاول پور ایک سابق ریاست اور صوبہ رہا ہے، اسی بنیاد پر یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ "صوبہ بہاول پور” دوبارہ بحال کیا جائے۔ یہ مطالبہ صرف سیاست نہیں بلکہ بہتر انتظام، ترقی اور خطے کی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ آج بھی یہ آواز سنائی دیتی ہے: "ہمارا صوبہ بحال کرو!”

اپنا تبصرہ بھیجیں