گندم کی محفوظ اسٹوریج کے لیے ماہرین زراعت کی ہدایات

گندم کی محفوظ اسٹوریج کے لیے ماہرین زراعت کی ہدایات

خصوصی کاوش : (شہزاد احمد مدنی)

بہاولپور (یوتھ ویژن نیوز) – ماہرین زراعت نے گندم کی کٹائی کے بعد اسے بہتر طریقے سے ذخیرہ کرنے کے لیے کسانوں کو تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق گندم کی فصل کو طویل مدت تک کیڑوں اور نمی سے محفوظ رکھنے کے لیے گوداموں کی ازسرِنو مرمت اور صفائی لازمی ہے۔

ماہرین کے مطابق گندم کی مناسب اسٹوریج نہ صرف فصل کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے بلکہ آنے والے سال کے لیے بیج اور خوراک کی حفاظت بھی یقینی بناتی ہے۔

نمی اور ذخیرہ کرنے کے اصول

ماہرین زراعت کے مطابق گندم کے دانوں میں نمی 10 فیصد سے کم رکھی جائے۔ نمی کے اضافے کو روکنے کے لیے پختہ فرش پر پولی تھین شیٹ اور کچے فرش پر کھجور کے پتوں کی چٹائی استعمال کرنی چاہیے۔

گودام سے بکھرے ہوئے پراٹھے، بھوسہ، تنکے، مٹی اور مردہ کیڑوں کو مکمل طور پر صاف کر کے باہر نکال دیا جائے یا زمین میں دبا دیا جائے۔ یہ اشیاء کیڑوں کی افزائش کا سبب بنتی ہیں۔

گودام کی تیاری

گندم کی محفوظ اسٹوریج کے لیے ماہرین زراعت کی ہدایات

گودام کی اندرونی دیواروں، چھت اور فرش کی تمام شگافوں اور سوراخوں کو سیمنٹ سے بند کر کے سفید رنگ سے ہموار کیا جائے۔ اس سے کیڑوں کے چھپنے کی جگہیں ختم ہو جاتی ہیں۔

پرانی بوریوں کو نئی فصل ذخیرہ کرنے سے پہلے استعمال نہ کیا جائے۔ تاہم اگر ضروری ہو تو زرعی محکمے کے ماہرین کی تجویز کردہ کیمیائی دوا میں 10 منٹ بھگو کر خشک کر لیں۔

دانوں کو اچھی طرح خشک کرنے کے بعد ہی ذخیرہ کریں۔

دھونی دینے کا طریقہ کار

گودام کو تیار کرنے سے پہلے 1000 کیوبک فٹ رقبے پر 7 کلوگرام کوئلہ جلا کر درجہ حرارت 66 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھایا جائے اور 48 گھنٹے تک بند رکھا جائے۔ یہ عمل تمام جراثیم اور کیڑوں کو ختم کر دیتا ہے۔

گودام کو چوہوں، پرندوں اور موسمی خطرات سے محفوظ بنایا جائے۔ بوریوں کو فرش سے الگ رکھنے کے لیے لکڑی کے تختوں پر رکھیں تاکہ نیچے کی نمی اثر نہ کرے۔

ٹوٹی پھوٹی یا خراب گندم کو ذخیرہ نہ کریں۔ خالی گودام میں فاسفین گیس کی گولیوں سے دھونی دیں۔

گندم کی محفوظ اسٹوریج کے لیے ماہرین زراعت کی ہدایات

بھڑولے میں گندم محفوظ رکھنے کا طریقہ

ماہرین نے کسانوں کو بھڑولوں میں گندم محفوظ رکھنے کا بھی طریقہ بتایا ہے۔ اس کے لیے گندم کو بھڑولے میں ڈالنے سے پہلے 2 سے 3 دن دھوپ میں رکھیں تاکہ نمی مکمل طور پر نکل جائے، کیونکہ زیادہ نمی کی وجہ سے کیڑے اور فنگس لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بھڑولے کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد گندم سے بھر دیں۔

گولیوں کی مقدار اور استعمال

بازار سے معتبر کمپنی کی ایلومینیم فاسفائیڈ والی گولیاں خریدیں۔

  • 8 من گندم پر صرف 1 گولی
  • 25 من پر 3 گولیاں
  • 50 من پر 6 گولیاں استعمال کریں

زیادہ مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ یہ گولیاں کھپرا اور سسری جیسے کیڑوں کو ختم کرتی ہیں۔

گولیاں رکھنے کا طریقہ

گولیاں کپڑے کی پوتی میں نہ باندھیں بلکہ کھلے برتن (کپ یا پیالی) میں ڈالیں اور اوپر نہ ڈھانپیں۔ انہیں گندم کے اوپر رکھ دیں، نیچے دبانے کی ضرورت نہیں کیونکہ پیدا ہونے والی فاسفین گیس 15 فٹ تک اثر کرتی ہے۔

پوتی میں رکھنے سے نمی جذب ہو کر گیس کم بنتی ہے۔ گولیاں ڈالنے کے فوراً بعد بھڑولے کو ہوا بند کریں تاکہ زہریلی گیس 2 ہفتے تک کیڑوں کو مارے۔

ہوا بند کرنا اور کھولنے کا وقت

دانے ڈالنے یا نکالنے کی جگہوں کو آٹے کی لیپ یا مٹی و گوبر کے مکسچر سے سیل کریں۔ ہوا لیک ہونے سے علاج بے اثر ہو جائے گا۔

ہوا بند کرنے کے 2 ہفتے بعد بھڑولا کھولیں اور 2 دن تک کھلا رکھیں تاکہ گیس نکل جائے۔ کھولنے کے 2 دن بعد تک گندم استعمال نہ کریں، مکمل پاک ہونے کا انتظار کریں۔

بہترین وقت

ماہرین کے مطابق اپریل اور مئی میں بھرنے کے بجائے جولائی میں گولیاں ڈالی جائیں جب نمی بڑھنے سے کیڑے زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ اس سے سال بھر گندم محفوظ رہتی ہے۔

یہ عمل اضافی گندم بیچنے کے بعد باقی ماندہ فصل کو گھر یا بیج کے استعمال کے لیے تیار کرتا ہے۔

کسانوں کے لیے اہم نکات

ماہرین نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ گندم ذخیرہ کرنے سے پہلے ان تمام اقدامات پر عمل کریں تاکہ ان کی محنت ضائع نہ ہو۔ ایک بار ذخیرہ شدہ گندم کو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہیں تاکہ کسی بھی قسم کی خرابی کو فوری طور پر درست کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں