پاک چین سی پیک فیز 2 کے تحت متعدد بڑے معاہدوں پر دستخط، صنعتی زونز اور زراعت میں جدید تعاون
اسلام آباد (یوتھ ویژن نیوز) – پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے لیے بیجنگ میں ایک اعلیٰ سطحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد بڑے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں کے تحت پاکستان کے مختلف صنعتی زونز میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ اب بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے ہٹ کر صنعت کاری، برآمدات اور کاروباری شراکت داری پر مرکوز ہے۔ چینی سفیروں اور پاکستانی حکام نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک 2.0 پاکستان کی معیشت کو استحکام فراہم کرے گا اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنائے گا۔
صنعتی زونز کی ترقی میں تیزی
سی پیک فیز 2 کے تحت پاکستان میں منصوبہ بند نو خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں سے چار — رشکئی، علامہ اقبل انڈسٹریل سٹی، دھابیجی اور بوسٹن — جزوی طور پر فعال ہو چکے ہیں۔ ان زونز میں فوڈ پروسیسنگ، سیرامکس، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور آٹو اسمبلی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
سی پیک انڈسٹریل کوآپریشن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (PMU CPEC-ICDP) نے خصوصی اقتصادی زونز کے فریم ورک کو فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ (BoI) کی قیادت میں منظور شدہ SEZs کی تعداد 7 سے بڑھا کر 44 کر دی گئی ہے، جس میں 37 نئے زونز کی منظوری بھی شامل ہے۔ یہ زونز صنعت کاری کو فروغ دینے اور چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کام کریں گے۔
زراعت میں تاریخی معاہدے اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی
زراعت کے شعبے میں تعاون کو سی پیک 2.0 کے تحت اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ حال ہی میں منعقدہ "پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس” کے دوران 78 مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 4.5 ارب ڈالر ہے۔ ان معاہدوں میں بیج ٹیکنالوجی، ڈیری مصنوعات، فوڈ پروسیسنگ، فروٹ اور سائٹرس ڈیولپمنٹ، کولڈ چین انفراسٹرکچر اور زرعی مشینری جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کے دورہ چین کے دوران بھی تین اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن میں کراچی میں جدید سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس کی تنصیب، سندھ میں جدید زرعی ٹیکنالوجیز کا نفاذ، اور پاکستان کی چائے کی صنعت کو جدید بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، چین پاکستان لائیو اسٹاک اور ویٹرنری انڈسٹری ٹیکنالوجی کوآپریشن سینٹر قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جس کا مقصد مشترکہ تحقیق، معیارات کی تشکیل اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے۔
برآمدات میں اضافے کا ہدف
پاکستان کی زرعی برآمدات فی الحال 8 ارب ڈالر ہیں، اور حکومت نے اگلے تین سالوں میں اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ چین کے ساتھ 25 سے زائد سینیٹری اور فائیٹوسینیٹری پروٹوکولز (SPS) پر دستخط کیے جانے ہیں، جس سے پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے چینی مارکیٹ تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری حکومت کا مقصد پاکستان کو چینی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہے۔ چین کے ساتھ ہماری شراکت داری نہ صرف زراعت بلکہ صنعت، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں بھی انقلاب برپا کرے گی” ۔
گرین گروتھ اور پائیداری پر زور
چین کے قونصل جنرل سن یان نے حال ہی میں لاہور میں منعقدہ ایک کانفرنس میں کہا کہ سی پیک 2.0 کا فوکس صنعت کاری، زرعی جدیدیت، تکنیکی جدت، سبز ترقی اور معیار زندگی میں بہتری پر ہوگا۔ انہوں نے گوادر بندرگاہ کو علاقائی تجارت کے مرکز کے طور پر فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
پاکستان نے "کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان” کے تحت سی پیک کے تحت ترقی پانے والے خصوصی اقتصادی زونز کو گرین اکنامک زونز (GEZs) میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ یہ زونز کلین انرجی اور سرکلر اکانومی کے اصولوں پر کام کریں گے، جس سے بین الاقوامی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کرنے اور برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔
مستقبل کی راہ
پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر سی پیک فیز 2 کے تحت مزید سرمایہ کاری پر مبنی اقدامات متوقع ہیں۔ حکام کے مطابق، آنے والے مہینوں میں زرعی شعبے میں نئی بیج پالیسی اور نیشنل ایگریکلچر بائیوٹیکنالوجی فریم ورک بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GMO) بیجوں کے استعمال کو ممکن بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق سی پیک 2.0 پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی زراعت اور صنعت کو جدید بنا کر نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں برآمدات بڑھا سکتا ہے۔