پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر اہم پیش رفت، توانائی تعاون کو نئی جہت
ماسکو (یوتھ ویژن نیوز) – روس اور پاکستان نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیتے ہوئے گیس پائپ لائن منصوبے کے عملی آغاز کے لیے نئے طریقہ کار پر باقاعدہ دستخط کیے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق یہ اہم منصوبہ پاکستان میں جاری توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔
یہ طویل الانتظار منصوبہ بالآخر عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ پاکستان میں 1960 اور 70 کی دہائیوں کے بعد روس کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔
منصوبے کی تفصیلات
پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن (PSGP)، جسے پہلے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن کہا جاتا تھا، کے تحت:
- لمبائی: تقریباً 1,100 کلومیٹر
- راستہ: کراچی سے لاہور اور قصور (مستقبل میں گوادر تک توسیع کا منصوبہ)
- مجموعی لاگت: 2.5 ارب ڈالر
- روس کی سرمایہ کاری: تقریباً 2 ارب ڈالر
- سالانہ گیس کی ترسیل: 12.4 ارب مکعب فٹ (سالانہ 16 بلین کیوبک میٹر تک)
- یومیہ صلاحیت: 50 کروڑ سے 1 ارب مکعب فٹ گیس
- ملکیت کا تناسب: پاکستان 74 فیصد، روس 26 فیصد
یہ منصوبہ کراچی اور گوادر میں موجود ایل این جی ٹرمینلز کو لاہور سے منسلک کرے گا، جس سے شمالی پاکستان کو سستی اور بلا تعطل گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
تازہ ترین پیش رفت
پاکستان اور روس نے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے متعدد معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے کی ہیں:
- آف شور گیس پائپ لائن کا معاہدہ (اپریل 2026): پاکستان نے روسی توانائی کمپنی گازپروم کے ساتھ فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے عارضی معاہدہ کیا ہے۔
- قانونی عمل کی تکمیل (مارچ 2026): وزیراعظم نے منصوبے کے لیے مطلوبہ قانونی عمل جلد مکمل کرنے کا عزم کیا۔
- روس میں اعلیٰ سطحی مذاکرات (اپریل 2026): ماسکو میں انٹر گورنمنٹل کمیشن کے آٹھویں اجلاس میں جامع روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
چیلنجز اور رکاوٹیں
اس منصوبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے:
- امریکی پابندیاں: روسی کمپنی روسٹیک پر پابندیوں کے باعث منصوبے کو روک دیا گیا تھا، تاہم اب اسے گازپروم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
- فنڈنگ کی فراہمی: روس نے پاکستان کو 74 فیصد حصہ دے کر فنڈنگ میں مدد کا وعدہ کیا ہے۔
- جیو پولیٹیکل رکاوٹیں: ایران کے راستے مجوزہ پائپ لائن پر امریکی پابندیاں بھی رکاوٹ ہیں۔
فوائد اور اہمیت
یہ منصوبہ پاکستان کے لیے درج ذیل فوائد کا حامل ہے:
- توانائی کے بحران کا حل، صنعتوں کو فروغ اور بجلی کی پیداوار سستی ہوگی
- پاکستان اور روس کے تعلقات میں ایک نیا باب ثابت ہوگا
- گیس کی بہتر دستیابی سے زراعت، ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کو فائدہ ہوگا
- گوادر کو توانائی کے مرکز میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی
مستقبل کی راہ
حکام کے مطابق آنے والے سالوں میں اس منصوبے پر کام کا آغاز متوقع ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان میں روس کی 1960 اور 70 کی دہائیوں کے بعد سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔