فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ ایران ثالثی کوششوں کے سلسلے میں 3 روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ ایران ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے

یوتھ ویژن نیوز: (آئی ایس پی آر) – پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے ہیں۔ یہ ایک ماہ سے زائد عرصے میں آرمی چیف کا دوسرا دورہ ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعہ 22 مئی کو سرکاری دورے پر ایران پہنچے۔ تہران کے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کیا، جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محسن نقوی گزشتہ تین روز سے تہران میں ہیں اور انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔

دورے کا مقصد اور سفارتی کوششیں

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ ان ثالثی کوششوں کا حصہ ہے جو 8 اپریل کو عبوری جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ اس سے قبل 11-12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق آرمی چیف اس دورے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ عسکری و شہری رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں امریکہ ایران مذاکرات، خطے میں امن و استحکام اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو بتایا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستانی وفد تہران کا دورہ کرے گا اور اس سے مذاکرات میں پیشرفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں "معمولی پیشرفت” ہوئی ہے، لیکن انہوں نے زیادہ امید ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

ممکنہ عبوری معاہدے کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق اس دورے میں ایک "عبوری معاہدے” پر بات چیت متوقع ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنا
  • امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
  • 30 دن کے اندر جوہری مذاکرات کا انعقاد

تاہم ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی، بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کے معاوضے جیسے امور براہ راست مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔

اگر یہ عبوری معاہدہ طے پاتا ہے تو عیدالاضحیٰ کے بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔

مذاکرات میں رکاوٹیں اور مستقبل کی راہ

ماہرین کے مطابق مذاکرات میں دو اہم رکاوٹیں ہیں: ایران کا جوہری پروگرام (خاص طور پر 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیم) اور آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ "ایران معاہدہ کرنے کے لیے مر رہا ہے”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں صحیح جوابات نہ ملے تو حالات تیزی سے بگڑ سکتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات "گہرے اور اہم” ہیں اور یہ کہنا ضروری نہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے، جبکہ جوہری مسائل اس مرحلے پر زیر بحث نہیں ہیں۔

عالمی اثرات

واضح رہے کہ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں 3,300 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ جوابی کارروائی میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔ اس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں تیز کر رکھی ہیں اور پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں مکالمے، جنگ بندی، شہری اور جوہری تنصیبات کے تحفظ، اور آبنائے ہرمز میں بحفاظت بحری تجارت کو یقینی بنانے جیسے نکات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں