28 ویں مجوزہ آئینی ترامیم: حکومت کی مدت 5 سال سے غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر غور

28 ویں مجوزہ آئینی ترمیم: حکومت کی مدت 5 سال سے بڑھا کر غیر معینہ کرنے سمیت اہم تجاویز زیر غور

یوتھ ویژن نیوز :(اسلام آباد) – 28 ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت 18 ویں ترمیم میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں نئے صوبوں کا قیام، این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی، وفاق اور صوبوں کے اختیارات کی ازسرِنو تقسیم، اور حکومت کی مدت میں تبدیلی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت صرف پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کی منظوری سے نیا صوبہ بنایا جا سکے گا۔

مجوزہ ترامیم میں این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی اور صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ نیز تعلیم اور صحت کی وزارتیں صوبوں سے واپس لے کر وفاق کے سپرد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

کراچی اور گوادر کو وفاق کے زیرِ انتظام شہر قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کے تحت ان شہروں کے ترقیاتی منصوبے، ریونیو اور فنڈنگ وفاقی حکومت کے پاس ہوگی۔

گورنر راج سے متعلق بڑی تبدیلی کی تجویز ہے، جس کے تحت اس کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری کی شرط ختم کر کے فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

حکومت کی مدت میں تبدیلی

ذرائع کے مطابق حکومت کی مدت کو پانچ سال سے بڑھا کر غیر معینہ مدت تک کرنے پر غور جاری ہے۔ حالات کے پیش نظر انتخابات مؤخر کرنے کی شق بھی زیر بحث ہے۔ جنگی حالات، معاشی بحران یا قدرتی آفات کی صورت میں انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز بھی مجوزہ پیکج کا حصہ ہے۔

تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ فی الحال 28 ویں ترمیم کے آثار نظر نہیں آرہے اور کوئی بھی آئینی ترمیم اتحادیوں کے مشاورت کے بعد ہی آگے بڑھ سکے گی。

دیگر تجاویز اور سیاسی صورتحال

دیگر تجاویز میں فاٹا کی سابقہ حیثیت بحال کرنے پر غور، اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو ختم کرنے کی تجویز شامل ہے، جس سے وفاق پر تقریباً 700 ارب روپے کا بوجھ کم ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبوں کو این ایف سی کے تحت ملنے والے فنڈز سے متبادل امدادی پروگرام چلانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت 28 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے عیدالاضحیٰ سے قبل 21 مئی کو لانے کی تجویز ہے، جبکہ نئے صوبوں کا معاملہ اس ترمیم میں شامل نہیں ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور ان کے بغیر کوئی آئینی ترمیم ممکن نہیں۔

آئینی تقاضے

کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی میں کم از کم 224 ووٹ جبکہ سینیٹ میں 64 ووٹ ضروری ہیں۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں کسی ایک جماعت کے پاس خود یہ تعداد موجود نہیں، جس کی وجہ سے اتحادی جماعتوں کی مشاورت ناگزیر ہے。

اپنا تبصرہ بھیجیں