اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ پی ٹی آئی سینیٹرز نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن میں پٹیشن دائر کر دی

اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ پی ٹی آئی سینیٹرز نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن میں پٹیشن دائر کر دی

(خصؤصی رپورٹ برائے مبشر جمیل بلوچ سے)

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کے بنیادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) میں ایک باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے ۔

بیرسٹر سید علی ظفر کی قیادت میں دائر کی گئی اس پٹیشن میں اڈیالہ جیل میں قید بشریٰ بی بی کی گرتی ہوئی صحت اور فیملی تک رسائی پر عائد پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے

پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری کے بعد ان کی بینائی خطرے میں ہے، تاہم جیل انتظامیہ نے ان کی بہن کے سوشل میڈیا ٹویٹس کو بہانہ بنا کر ان کے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقاتیں روک رکھی ہیں۔ سینیٹرز نے اسے آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت "اجتماعی سزا” قرار دیتے ہوئے کمیشن سے فوری مداخلت اور اڈیالہ جیل کے فوری طبی معائنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پٹیشن بشریٰ بی بی کو فوری طبی امداد اور ان کے خاندان سے ملنے کی اجازت دینے کے لیے دائر کی گئی ہے۔

بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری اور صحت کی تشویشناک صورتحال

بشریٰ بی بی کو گزشتہ ماہ اپنی دائیں آنکھ میں بینائی کی خرابی کی شکایت کے بعد راولپنڈی کی الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال میں آنکھ کی سرجری کروائی گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے ریٹنا ڈیٹیچمنٹ (Retinal Detachment) کی تشخیص کی تھی جس کے بعد فوری سرجری کی گئی۔ سرجری کے بعد ان کی آنکھ کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور بعد از آپریشن چیک اپ جیل کے اندر ہی کیے جا رہے تھے۔

تاہم پی ٹی آئی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ سرجری کے باوجود بشریٰ بی بی کی بینائی خطرے میں ہے اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں انسانی اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقاتوں پر پابندی

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وتو کے سوشل میڈیا ٹوئٹس کو بہانہ بنا کر جیل انتظامیہ نے ان کے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقاتیں روک رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق خاتون اول کو ہفتے میں دو بار خاندان اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دی ہے، تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

سینیٹرز نے اسے آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت "اجتماعی سزا” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک قیدی کی بہن کے ٹوئٹس کی پاداش میں قیدی کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا غیرقانونی اور غیر آئینی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن سے مداخلت کا مطالبہ

سینیٹرز نے اپنی پٹیشن میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) سے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کمیشن سے اڈیالہ جیل کے فوری طبی معائنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ بشریٰ بی بی کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا جا سکے۔

سینیٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو فوری طور پر بہتر علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کیا جائے، ان کے ذاتی معالج کو جیل میں ان تک رسائی دی جائے، اور ان کی اہل خانہ اور بیٹیوں سے فوری ملاقات کروائی جائے۔

پی ٹی آئی سینیٹرز نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن میں پٹیشن کی نمایاں تصویر
پی ٹی آئی سینیٹرز نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن میں پٹیشن میں سینٹرز کے دستخط مجود

سینیٹ میں بھی اٹھایا گیا معاملہ

اس سے قبل پی ٹی آئی سینیٹرز بشریٰ بی بی کی صحت کا معاملہ سینیٹ میں بھی اٹھا چکے ہیں۔ سینیٹر اعظم سواتی نے دعویٰ کیا تھا کہ بشریٰ بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "انسانی جان کے ساتھ ناروا سلوک کبھی جائز نہیں” اور حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں کو تبدیل کرے اور صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔

سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہ مانے تو وہ ایوان میں اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔

جیل انتظامیہ کا موقف

دوسری طرف حکومت اور جیل حکام کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کو ملک میں دستیاب بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کو جدید ترین طبی سہولیات دی جا رہی ہیں۔

جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل کیا جا رہا ہے، تاہم کچھ سیاسی شخصیات قواعد کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ جیل انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق، کچھ ملاقاتیں جیل سے باہر سیاسی گفتگو میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے پابندیاں عائد کرنی پڑتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں