ابوظہبی میں ڈرون حملے سے جوہری سہولت کے قریب آگ بھڑک اٹھی

ابوظہبی میں ڈرون حملے سے جوہری سہولت کے قریب آگ بھڑک اٹھی

یوتھ ویژن نیوز : (ابوظہبی ) – اتوار کو ہونے والے ایک ٹارگٹڈ ڈرون حملے نے ابوظہبی میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے مرکزی سیکیورٹی دائرے سے باہر ایک بیرونی بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر کو آگ لگا دی۔

ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا، جس کے بعد ہنگامی عملے نے فوری طور پر آگ پر قابو پانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ریڈی ایشن لیک ہوا ہے۔

براکہ نیوکلیئر پلانٹ اور حملے کی تفصیلات

ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق یہ حملہ الضفریٰ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی احاطے سے باہر کیا گیا۔ اس حملے کی زد میں آنے والا الیکٹرک جنریٹر پلانٹ کے مرکزی سیکیورٹی فاصلے کے باہر واقع تھا، جس کی وجہ سے پلانٹ کے بنیادی نظام اور جوہری حفاظتی اقدامات کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔

یو اے ای کی وفاقی ادارہ برائے جوہری ضابطہ (FANR) نے تصدیق کی ہے کہ آگ نے پاور پلانٹ کی حفاظت یا اس کے ضروری نظاموں کی آپریشنل تیاری کو متاثر نہیں کیا اور تمام یونٹ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ یہ حملہ اس تنازع کے دوران براکہ کی چار ری ایکٹر والی نیوکلیئر سہولت کو نشانہ بنانے والا پہلا معروف حملہ ہے۔

حملے کی ذمہ داری سے متعلہ غیر یقینی صورتحال

ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی یو اے ای حکام نے کسی خاص فریق پر الزام عائد کیا ہے۔

تاہم یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف جارحیت کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے کیے تھے اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ فی الحال 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی ہے۔

عالمی ردعمل اور مستقبل کے اثرات

یہ حملہ خطے میں جوہری تنصیبات کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات مستقبل میں توانائی کی تنصیبات کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس حملے سے کوئی جوہری حادثہ پیش نہیں آیا، لیکن اس قسم کی کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

ابوظہبی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے بچیں اور سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں