ایران نے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی

ایران نے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی

تہران (یوتھ ویژن نیوز): خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ایران نے ایک بڑا تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے عالمی تجارت اور فوجی نقل و حرکت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ سے دشمن غیر ملکی فوجی سامان کی ترسیل پر فوری اور مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

تہران کا باضابطہ اعلان اور سیکیورٹی خدشات

تہران کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی اعلامیے کے مطابق، یہ سخت پابندی اس اہم ترین سمندری راہداری میں امن و امان اور سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ خطے میں غیر ملکی طاقتوں کی عسکری مداخلت اور نقل و حرکت ملکی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن رہی تھی، جس کے باعث یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اور اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا بھر کے تیل کی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی (33 فیصد) حصہ گزرتا ہے۔

  • چین اور امریکہ کے مفادات: حال ہی میں بیجنگ سمٹ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اس راستے کو کھلا رکھنے پر زور دیا تھا، کیونکہ چین کی 40 فیصد تجارتی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
  • عالمی منڈی پر اثرات: ایران کے اس اچانک فیصلے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین متاثر ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عالمی ردِعمل کا امکان

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ اقدام امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کر چکے ہیں، ایران کا یہ جوابی وار خطے کی سیاست میں ایک نیا زلزلہ لا سکتا ہے۔ ائیر فورس ون میں ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد، اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن اس پابندی پر کیا ردِعمل دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں