پاکستانی فری لانسرز نے 985 ملین ڈالر کما لیے، مگر پے پال آج بھی پاکستان سے غائب
یوتھ ویژن نیوز(اسلام آباد) – پاکستان کے فری لانسرز نے مالی سال 2025 کے دوران 985 ملین امریکی ڈالر سے زائد زرمبادلہ ملک میں لایا ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا کی سب سے بڑی آن لائن پیمنٹ سروسز میں شامل پے پال (PayPal) اب تک پاکستان میں دستیاب نہیں۔ ماہرین اسے ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک بڑا تضاد قرار دے رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق یہ کمائی تین سال قبل کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے، جو پاکستانی نوجوانوں کی عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
فری لانسنگ میں تیزی سے اضافہ
پاکستان گزشتہ چند برسوں میں عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں تیزی سے ابھرتا ہوا ملک بن چکا ہے۔ پاکستانی نوجوان آئی ٹی، گرافکس ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، AI سروسز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور پروگرامنگ سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2.37 ملین فری لانسرز موجود ہیں، جو اسے عالمی سطح پر سب سے بڑی فری لانسنگ فورسز میں سے ایک بناتا ہے۔ اکیسویں صدی کے اس نوجوان طبقے میں سے 60 فیصد کی عمر 30 سال سے کم ہے، جو اس شعبے کو نہ صرف روزگار کا اہم ذریعہ بلکہ نوجوانوں کے لیے مالی شمولیت کا بھی بڑا موقع بناتا ہے۔
ان کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی آئی ٹی برآمدات 3.38 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جس میں فری لانسرز کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
پے پال کی عدم موجودگی: ایک بڑا تضاد
دنیا بھر میں لاکھوں فری لانسرز اور آن لائن کاروبار PayPal کو بنیادی پیمنٹ گیٹ وے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ متعدد بین الاقوامی کلائنٹس صرف انہی فری لانسرز کے ساتھ کام کرنا ترجیح دیتے ہیں جن کے پاس PayPal اکاؤنٹ موجود ہو۔
لیکن پاکستان میں PayPal کی عدم دستیابی کی وجہ سے فری لانسرز کو ادائیگیاں وصول کرنے کے لیے متبادل پلیٹ فارمز، تیسرے ممالک کے اکاؤنٹس یا اضافی فیس والے سروسز استعمال کرنا پڑتی ہیں۔
پے پال کی عدم موجودگی کی بڑی وجوہات
اسٹیٹ بینک اور ماہرین کے مطابق پے پال کے پاکستان میں نہ آنے کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
- سخت ریگولیٹری فریم ورک: پاکستان میں اینٹی منی لانڈرنگ (AML) اور ناٹ یور کسٹمر (KYC) کے قوانین بہت سخت ہیں، جس سے عالمی کمپنیاں باز رہتی ہیں۔
- کاروباری فزیبلٹی: پے پال شاید پاکستانی مارکیٹ کو تجارتی طور پر اتنا منافع بخش نہیں سمجھتا کہ وہ یہاں بڑے پیمانے پر کام شروع کرے۔
- دھوکہ دہی اور شناخت کی تصدیق: ڈیجیٹل شناخت اور فراڈ کے حوالے سے مستقل مسائل پے پال کے لیے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
موجودہ متبادل پیمنٹ سسٹمز
پے پال کی غیر موجودگی میں پاکستانی فری لانسرز Payoneer، Wise، Skrill، Xoom اور بینک ٹرانسفر جیسے متبادل پر انحصار کر رہے ہیں۔
تاہم ان پلیٹ فارمز پر زیادہ فیس اور طویل ٹرانزیکشن ٹائم کی وجہ سے پاکستانی فری لانسرز کو بین الاقوامی مقابلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پے پال جیسے عالمی پیمنٹ پلیٹ فارمز کی عدم موجودگی پاکستان کے فروغ پزیر ڈیجیٹل سروسز سیکٹر کے لیے ایک بڑا ساختی مسئلہ ہے۔
حکومتی اقدامات اور حالیہ پیش رفت
حکومت اور اسٹیٹ بینک نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں:
- 50 فیصد ڈالر رکھنے کی پالیسی: فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیاں اپنی کمائی کا 50 فیصد ڈالرز میں ہی رکھ سکتے ہیں۔
- سہولیات میں آسانی: فری لانسرز کو اب ہر بار فارم “R” جمع کرانے کی ضرورت نہیں۔
- ایس آئی ایف سی کا پائلٹ پروجیکٹ: سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے 10,000 فری لانسرز کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا ہے، جس میں وہ تیسرے فریق کے ذریعے پے پال کے ذریعے ادائیگیاں وصول کر سکتے ہیں۔
- خود مختار اکاؤنٹس: مختلف بینکوں نے فری لانسرز کے لیے ڈیجیٹل کرنٹ اکاؤنٹس متعارف کروائے ہیں۔
- گلوبل پیمنٹ سلوشنز: زندگی (Zindigi) نے فری لانسرز کے لیے Paylink متعارف کرایا ہے، جس سے کلائنٹس ویزا/ماسٹر کارڈ کے ذریعے آسانی سے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
مستقبل کی راہ
حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ای کامرس کے قوانین میں نرمی کے بعد باضابطہ طور پر پے پال اور علی بابا کو پاکستان میں خدمات شروع کرنے کی دعوت دے گی۔
ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں شمولیت کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی پیمنٹ نیٹ ورکس تک براہِ راست رسائی مل جائے تو پاکستان کی ڈیجیٹل برآمدات موجودہ 3.38 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔
ایک طرف پاکستانی نوجوان دنیا سے ڈالرز کما رہے ہیں، دوسری طرف وہ آج بھی عالمی پیمنٹ انفراسٹرکچر تک براہِ راست رسائی سے محروم ہیں – اور یہی سوال اب پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کے مستقبل پر کھڑا نظر آتا ہے۔تاہم، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں عالمی معیار کی سہولیات نہ ہونے کے باعث پاکستانی فری لانسرز کو اب بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔