ایران کی جانب سے جواب موصول، پائیدار امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری: شہباز شریف
اسلام آباد (یوتھ ویژن نیوز) – وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز پر جواب موصول ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
اسلام آباد میں ’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ کے موقعے پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: "خطے میں اور دنیا میں پائیدار امن کی خاطر ہماری مخلصانہ کاوشیں اب بھی جاری ہیں۔ مجھے فیلڈ مارشل (عاصم منیر) نے ابھی بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے، لیکن میں ابھی اس کی تفصیل نہیں بنا سکتا۔”
ایرانی میڈیا کی تصدیق
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے کہا تھا کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاکستانی ثالثوں کو تازہ ترین امریکی تجویز پر اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک جامع فریم ورک تیار کر کے دونوں فریقوں کو فراہم کیا تھا۔
پاکستان کی سفارتی کاوشیں جاری
شہباز شریف نے کہا کہ "ایران میں بھی امن قائم کرنے کے حوالے سے پاکستان اپنی سفارتی کاوشیں انتہائی خلوص کے ساتھ بروئے کار لا رہا ہے۔”
وزیراعظم کے بقول: "اس حوالے سے ہم نے نہ صرف فریقین کو عارضی جنگ بندی پر قائل کیا بلکہ 1979 کے بعد انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔”
1979 کے بعد پہلی بار مذاکرات کی میز پر
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔ پاکستان کی ثالثی سے دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی حکام 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر آئے — جو چار دہائیوں میں پہلا موقع تھا۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی بھی عمل میں آئی تھی، جسے امریکی صدر ٹرمپ نے لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا تھا۔
مستقبل کی راہ
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے جواب موصول ہونے کے بعد اب دونوں فریقین کے درمیان مستقل معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے یقین دلایا کہ سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے دونوں فریقین کو ایک جامع فریم ورک پیش کیا تھا جس میں:
- آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنا
- ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی
- ایران کے جوہری پروگرام پر پابندی
- قیدیوں کے تبادلے کا طریقہ کار
جیسے نکات شامل تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے جواب کے بعد مستقل معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں۔