تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم تھاکسن شناوترا 8ماہ بعد پیرول پر رہا
یوتھ ویژن نیوز : (بینکاک) – تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم تھاکسن شناوترا کو آٹھ ماہ قید کاٹنے کے بعد پیرول پر رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں نے پرجوش استقبال کیا۔
76 سالہ ارب پتی سیاستدان پیر کے روز بینکاک کی کلونگ پریم جیل سے رہا ہوئے۔ اس موقع پر ان کی صاحبزادی اور سیاسی جانشین پیٹونگٹرن شیناواترا سمیت خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔
حامیوں کا پرتپاک استقبال
جیل سے باہر سرخ لباس میں ملبوس سینکڑوں حامیوں نے "وی لوو تھاکسن” کے نعرے لگائے۔ تھاکسن شناوترا نے جیل سے باہر آتے ہی ہاتھ اٹھا کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ آزاد ہو کر مطمئن ہیں۔
ان کے حامیوں نے جیل کے باہر پھول اور تحائف پیش کیے اور جشن منایا۔
واپسی کا پس منظر
واضح رہے کہ تھاکسن شناوترا گزشتہ برس عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد قید میں تھے۔ اس سے قبل وہ طویل عرصہ بیرون ملک خود ساختہ جلاوطنی میں گزار چکے تھے۔
تھاکسن شناوترا تھائی لینڈ کے مقبول ترین لیکن متنازع سیاستدانوں میں شامل ہیں۔ وہ 2001 سے 2006 تک وزیراعظم رہے، جب ایک فوجی بغاوت کے بعد انہیں معزول کر دیا گیا۔ ان کی جلاوطنی کے بعد بھی تھائی سیاست پر ان کا اثر و رسوخ برقرار رہا۔
پیرول کی شرائط
پیرول پر رہائی کے بعد تھاکسن شناوترا کو بعض پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اطلاعات کے مطابق وہ ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے اور انہیں وقتاً فوقتاً حکام کو رپورٹ کرنا ہوگا۔
تاہم ان کی واپسی سے تھائی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچنے کا امکان ہے، خاص طور پر جب ان کی بیٹی پیٹونگٹرن پہلے ہی اہم سیاسی کردار ادا کر رہی ہیں۔
سیاسی مضمرات
ماہرین کے مطابق تھاکسن کی رہائی سے تھائی لینڈ میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے حامی اور مخالفین کے درمیان تصادم کے امکانات موجود ہیں۔
تھاکسن شناوترا کو ان کی حامی جماعتوں کی طرف سے بے پناہ حمایت حاصل ہے، جبکہ مخالفین ان پر بدعنوانی اور اقتدار کے غلط استعمال کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
مستقبل کی راہ
اب دیکھنا یہ ہے کہ رہائی کے بعد تھاکسن شناوترا تھائی سیاست میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ آیا وہ اپنی جلاوطن زندگی کے بعد ایک بار پھر ملک کی سیاست میں سرگرم ہوں گے یا خاموشی اختیار کریں گے۔