بہاولنگر میں 461 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا کا راج، ضلعی انتظامیہ پر سہولت کاری کا الزام

بہاولنگر میں 461 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا کا راج، ضلعی انتظامیہ پر سہولت کاری کا الزام
malik safdar zia

خصوصی رپورٹ برائے ملک صفدرضیاء سے

یوتھ ویژن نیوز : (بہاولنگر – حکومت پنجاب کے "سرکاری زمینیں واگزار کراؤ” مشن کو بہاولنگر میں شدید دھچکا لگا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر کی مبینہ ملی بھگت سے کھربوں روپے مالیت کی 461 کنال 19 مرلہ سرکاری اراضی قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ رقبہ مکمل طور پر حکومت پنجاب کی ملکیت ہے، جس پر 22 سے زائد بااثر افراد ناجائز قابض ہیں۔ تاہم اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر احمد گوپانگ نے مبینہ طور پر قبضہ مافیا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے محض 3 سے 4 افراد کے عدالتی دعوے کو جواز بنا کر پوری زمین کا آپریشن روک دیا ہے۔

بہاولنگر میں 461 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا کا راج، ضلعی انتظامیہ پر سہولت کاری کا الزام

انتظامیہ کی پراسرار خاموشی اور سہولت کاری

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر نے عدالت میں حکومت کا مؤثر دفاع کرنے کے بجائے "ٹال مٹول” کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ عوام سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی حصے پر حکم امتناعی (سٹے آرڈر) موجود بھی تھا، تو باقی رقبے پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ مزید برآں، 17 ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت گندم کی کروڑوں روپے کی فصل، جو قانوناً سرکاری خزانے میں جانی چاہیے تھی، مبینہ طور پر انتظامیہ کی آشیرباد سے ناجائز قابضین کے حوالے کر دی گئی۔

سی ایم پورٹل کی شکایات بھی بے اثر

متاثرہ شہریوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس قبضے کے خلاف متعدد بار وزیر اعلیٰ پنجاب کے شکایت سیل (سی ایم پورٹل) پر رجوع کیا گیا، لیکن ضلعی انتظامیہ نے ہر بار غلط بیانی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچایا۔ عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ قبضہ مافیا میں شامل بااثر وکلاء اور انتظامی افسران کے درمیان لاکھوں روپے کے مبینہ لین دین کی وجہ سے فائلیں دبا دی گئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سے اپیل

اہالیان علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ بہاولنگر انتظامیہ کے اس مجرمانہ کردار کی فوری اور شفاف انکوائری کروائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ 461 کنال رقبہ فوری طور پر واگزار کروا کر حکومت کی "اپنا کھیت اپنا روزگار” سکیم میں شامل کیا جائے، تاکہ بے زمین کسانوں کو ان کا حق مل سکے اور قبضہ مافیا کے بجائے عام آدمی کو ریلیف پہنچے۔

اسسٹنٹ کمشنر کا موقف

اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر احمد گوپانگ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے عدالتی معاملات کا سہارا لے کر واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹری پنجاب سے بھی اس سنگین معاملے پر فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں