”یقین ہے مجھے قتل کر دیا جائے گا“، باپ کی پگڑی کی لاج میں موت قبول کرنے والی گلاں بھارو غیرت کا نشانہ بن گئیں

”یقین ہے مجھے قتل کر دیا جائے گا“، باپ کی پگڑی کی لاج میں موت قبول کرنے والی گلاں بھارو غیرت کا نشانہ بن گئیں

یوتھ ویژن نیوز : (سکھر)  سکھر کی ایک عدالت کے احاطے میں کھڑی نوجوان خاتون گلاں بھارو نے چند روز قبل جو الفاظ کہے تھے، وہ اب ایک دہلا دینے والی حقیقت بن چکے ہیں۔ دو بچوں کی ماں گلاں بھارو نے کہا تھا: "مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا۔” اپنی جان بچانے کے لیے وہ عدالت، پولیس اور دارالامان تک پہنچیں، لیکن آخرکار اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں "غیرت” کے نام پر قتل کر دی گئیں۔

یہ واقعہ پاکستان میں خواتین کے خلاف ہونے والے ظلم و تشدد کی ایک کڑوی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں معاشرتی رسوم اور روایات انسانی جان سے بھی بڑھ کر اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔

عدالت کے باہر ایک فیصلہ کن لمحہ

 گلاں بھارو کو قریباً 10 روز قبل عدالتی احکامات پر اُن کے والد کی تحویل میں دیا گیا تھا (فائل فوٹو:)
 گلاں بھارو کو قریباً 10 روز قبل عدالتی احکامات پر اُن کے والد کی تحویل میں دیا گیا تھا (فائل فوٹو)

سکھر کی مقامی عدالت کے باہر کا منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ایک ویڈیو میں گلاں بھارو کے والد اپنی پگڑی — جو سندھی ثقافت میں عزت و وقار کی علامت ہے ، اپنی بیٹی کے قدموں میں رکھتے نظر آتے ہیں۔ یہ انتہائی غیر معمولی اور عاجزانہ التجا تھی۔

اس جذباتی منظر کے بعد گلاں بھارو اپنے فیصلے سے پلٹ گئیں اور عدالت کے اندر جج کے سامنے بیان دیا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ جانا چاہتی ہیں — حالانکہ عدالت پہلے انہیں تحفظ کے لیے دارالامان بھیجنے کا حکم دے چکی تھی۔

تشدد سے بھری شادی اور مدد کی درخواستیں

گلاں بھارو کی شادی چھ سال قبل ہوئی تھی۔ ابتدائی برسوں کے بعد ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہو گئی اور گزشتہ تین سال سے وہ شوہر کے مبینہ جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کر رہی تھیں۔

قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے بارہا اپنے والدین اور مقامی افراد سے مدد مانگی۔ ان کے دو بچے ہیں، جن میں سے ایک کو وہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھیں، لیکن شوہر نے بچوں سے دور رکھنے کے علاوہ ان پر "کاروکاری” کا الزام بھی لگا دیا — ایسا الزام جو سندھ کے دیہی علاقوں میں اکثر خواتین کے قتل کا جواز بنتا ہے۔

پگڑی کی عزت اور موت کا انتخاب

گھر چھوڑنے کے بعد گلاں بھارو نے جھانگڑو تھانے میں پناہ لی۔ پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیا، جہاں ابتدائی طور پر انہیں دارالامان بھیجنے کا فیصلہ ہوا — جو اس بات کا اظہار تھا کہ حکام نے صورتحال کو خطرناک سمجھا۔ لیکن پھر عدالت کے باہر والد کی پگڑی رکھنے کی اپیل نے سب کچھ بدل دیا۔

عدالت کے اندر گلاں بھارو نے یہ تاریخی اور دل دہلا دینے والے الفاظ کہے:

"یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، لیکن میرے والد نے اپنی پگڑی میرے قدموں میں رکھ دی ہے، اور والد کی عزت کی خاطر مجھے موت بھی قبول ہے۔”

عدالت نے اسی بیان کی بنیاد پر انہیں والد کی تحویل میں دے دیا۔

دس دن بعد قتل

 گھر چھوڑنے کے بعد گلاں بھارو نے تھانے میں پناہ لی اور پھر پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
گھر چھوڑنے کے بعد گلاں بھارو نے تھانے میں پناہ لی اور پھر پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیا (فائل فوٹو)

سکھر پولیس کے مطابق گلاں بھارو کو تقریباً 10 روز قبل عدالتی حکم پر والد کے حوالے کیا گیا تھا اور اب انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

سینئر صحافی عبدالقیوم کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم مقتولہ کے ماموں مولا بخش بھارو کو گرفتار کر لیا ہے اور آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا۔ ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے مبینہ طور پر اعترافِ جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی 23 سالہ بھانجی کو "غیرت” کے نام پر قتل کیا اور اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کیا۔

مقدمہ چار افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، جن میں سے دو گرفتار ہو چکے ہیں اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

‘کاروائی’ کے نام پر سالانہ درجنوں قتل

گلاں بھارو کا کیس کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ مقامی صحافی عبدالقیوم کے مطابق سندھ میں کاروائی” کے نام پر ہر سال درجنوں افراد قتل کر دیے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین ایسے جرائم کا نشانہ بنتی ہیں، جن میں سے کئی کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

سماجی کارکنوں کی رائے

سماجی کارکن شاکر صابر کے مطابق یہ صرف قانونی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی مسئلہ ہے۔ جب تک معاشرہ "غیرت” کے تصور کو تبدیل نہیں کرتا، ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

خواتین خاندانی دباؤ، معاشی انحصار اور بدنامی کے خوف کے سبب اپنی سلامتی کے خلاف فیصلے لینے پر مجبور ہوتی ہیں۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں واضح جان کا خطرہ ہو، وہاں عدالتوں کو محض متاثرہ شخص کے بیان سے ہٹ کر اضافی احتیاط برتنی چاہیے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ جرمیات کی سربراہ ڈاکٹر نائمہ سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں "غیرت کے نام پر قتل” کے خلاف قوانین موجود اور حالیہ برسوں میں مزید سخت بھی ہوئے ہیں، لیکن مسئلہ قانون کے نفاذ اور معاشرتی قبولیت کا بھی ہے۔

بہت سے کیسز میں قریبی رشتہ دار ہی قاتل ہوتے ہیں اور بعد میں ایک دوسرے کو معاف کر کے انصاف کے عمل کو سبوتاژ کر دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

عدالت کے باہر کی ویڈیوز، جن میں گلاں بھارو والد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتی ہیں، میڈیا پر گردش کر رہی ہیں اور عوامی ردعمل میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا واقعی یہ ان کا آزادانہ فیصلہ تھا یا وہ شدید جذباتی دباؤ میں تھیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں