ڈبلیو ایچ او نے ڈی آر کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا
خصؤصی رپورٹ برائے (علی رضا)
یوتھ ویژن نیوز : (جنیوا) – عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نایاب بنڈی بگیو وائرس کی وجہ سے جمہوری جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں پھوٹنے والی ایبولا کی وبا کو باضابطہ طور پر بین الاقوامی تشویش کی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال (PHEIC) قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ 80 اموات کی اطلاع کے بعد کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر تیدروس ادهانوم گیبریسیوس نے اتوار کو یہ اعلان کیا۔ ادارے کے مطابق وبا کے پڑوسی ممالک میں پھیلنے کا خطرہ ہے، جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
متاثرہ علاقے اور اعداد و شمار
ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 16 مئی 2026 تک جمہوری جمہوریہ کانگو کے صوبہ ایتوری میں کم از کم تین ہیلتھ زونز (بونیا، روامپارا اور مونگبوالو) میں وبا پھیلی ہوئی ہے۔
لیبارٹری میں تصدیق شدہ کیسز: 8
مشتبہ کیسز: 246
مشتبہ اموات: 80
اس کے علاوہ دارالحکومت کنشاسا میں بھی ایک تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہوا ہے جبکہ یوگنڈا میں دو لیبارٹری تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک شخص کی موت واقع ہو چکی ہے۔ یوگنڈا میں رپورٹ ہونے والے کیسز کا تعلق کانگو سے آنے والے مسافروں سے ہے۔
بنڈی بگیو وائرس: ایک نیا چیلنج
اس وبا کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بنڈی بگیو (Bundibugyo) اسٹرین کی وجہ سے پھوٹی ہے، جس کی شناخت پہلی بار 2007 میں ہوئی تھی۔ افریقی سی ڈی سی کے مطابق یہ 1976 کے بعد کانگو میں ایبولا کا 17واں وبا ہے۔
اس اسٹرین کے خلاف فی الحال کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔ موجودہ ویکسینز صرف زائر اسٹرین کے خلاف مؤثر ہیں، جس کی شرح اموات 60 سے 90 فیصد تک ہے۔ افریقی سی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جین کیسیا نے بتایا کہ اب تک کل 336 کیسز (مشتبہ اور تصدیق شدہ) رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 87 اموات ہوئی ہیں۔
علاقائی خطرے کا جائزہ
ڈبلیو ایچ او نے اس وبا کے لیے علاقائی خطرے کو ‘ہائی’ قرار دیا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر خطرے کو فی الحال کم رکھا گیا ہے۔
ادارے نے تمام ممالک کو اپنے قومی ایمرجنسی مینجمنٹ میکانزم کو چالو کرنے اور سرحدوں پر نگرانی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو کانگو اور یوگنڈا سے متصل ہیں، ان کے لیے خطرہ زیادہ ہے۔
سفری پابندیوں سے متعلق ہدایات
ڈبلیو ایچ او نے اس وبا کے پیش نظر سفر یا تجارت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔ تاہم ادارے نے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کو یقینی بنائیں۔
افریقی سی ڈی سی نے پہلے ہی علاقائی رابطہ کاری اور فوری ردعمل کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پاکستان پر اثرات
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس وبا کے پھیلنے کا خطرہ فی الحال بہت کم ہے کیونکہ پاکستان اور متاثرہ افریقی ممالک کے درمیان براہ راست مسافر اور تجارتی تعلقات محدود ہیں۔ تاہم صحت حکام کو چوکسی برتنی چاہیے۔
یاد رہے کہ کانگو میں ایبولا کی آخری وبا دسمبر 2025 میں ختم ہوئی تھی جس میں 64 کیسز اور 45 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔