متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور شوہر کی سزا معطلی کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور شوہر کی سزا معطلی کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

اسلام آباد (یوتھ ویژن نیوز) – متنازع ٹوئٹس کیس میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی سے متعلق درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔ عدالت نے سزا معطلی کی ان درخواستوں کو فوری سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے ان درخواستوں کو کل سماعت کے لیے کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں پر جلد از جلد فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت اور قانونی تقاضے

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی تھی کہ وہ سزا معطلی کی ان درخواستوں پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کرے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ ہائیکورٹ ان درخواستوں میں تاخیر نہ کرے اور جلد از جلد فیصلہ سنائے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے تک یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گا۔ تاہم ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت میں تاخیر کے باعث سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی تھیں۔

عدالتی کارروائی میں پیشرفت

جسٹس محمد اعظم خان نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ وکلاء نے عدالت میں فیصلے کی مصدقہ کاپی متفرق درخواست کے ساتھ جمع کرا دی ہے۔ پہلے عدالت نے مصدقہ کاپی نہ ہونے پر اعتراض اٹھایا تھا، تاہم وکلاء نے یہ کاپی جمع کرا دی ہے۔

وکیل نے عدالت میں بتایا کہ متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور ملزمان کو جرح کا موقع نہیں دیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ٹرائل میں قانونی کارروائی کے تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا۔

کیس کا پس منظر

واضح رہے کہ ضلع اور سیشن جج افضل مجوکہ نے 24 جنوری 2026 کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو متنازع ٹوئٹس کیس میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ان پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔ پراسیکیوشن کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسے مواد کو فروغ دیا جو ریاست مخالف تھا اور کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت پہنچاتا تھا۔ یہ فیصلہ ان کی گرفتاری کے اگلے ہی روز سنایا گیا تھا۔

عدالت نے اب ان درخواستوں کو کل سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے، جہاں سزا معطلی کے حوالے سے اہم فیصلہ متوقع ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت نے ان کی سزا معطل کر دی تو وہ ضمانت پر رہا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر سزا معطل نہ ہوئی تو وہ اپیل کے ذریعے اپنی سزا کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ یہ کیس سوشل میڈیا پر آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے حوالے سے اہم ہے، جس پر پورے ملک میں بحث جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں