امریکہ اور ایران علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے تاریخی معاہدے کے قریب،عالمی جریدہ رائٹرز کا بڑا دعویٰ

امریکہ اور ایران علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے تاریخی معاہدے کے قریب،عالمی جریدہ رائٹرز

یوتھ ویژن نیوز : (واشنگٹن)  امریکہ اور ایران کے درمیان فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب ہے عالمی جریدہ رائٹرز کا دعویٰ۔ مسودہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت 60 روزہ جنگ بندی کی توسیع، آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا، ایرانی تیل کی برآمد پر پابندیوں میں نرمی، اور جوہری مذاکرات کے آغاز پر اتفاق کیا گیا ہے۔

رائٹرزکے مطابق یہ معاہدہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امن معاہدہ "بڑی حد تک طے پا چکا ہے”، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔ معاہدے کے حتمی نکات پر تبادلہ خیال جاری ہے اور توقع ہے کہ اگلے تین سے چار دنوں میں باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔

مسودہ مفاہمت کی یادداشت کے اہم نکات

رائٹرز کے مطابق مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو کسی بھی قسم کی فیس یا محصول کے بغیر کھلا رکھا جائے گا۔ ایران اس آبی گزرگاہ سے اپنی نصب کردہ بحری بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہوگا تاکہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے اسے 60 روز کی مدت کے لیے آزادانہ طور پر تیل برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔

جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کے ساتھ ساتھ یورینیم کی افزودگی معطل کرنے اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے کے حوالے سے مستقبل میں مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم معاہدے کے اس حصے پر ابھی مکمل اتفاق نہیں ہوا ہے اور ایران نے اس مرحلے پر جوہری معاملات پر بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

معاہدے کے تحت لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ایک امریکی افسر نے کہا ہے کہ "اگر حزب اللہ مناسب رویہ اختیار کرے گا تو اسرائیل بھی مناسب رویہ اختیار کرے گا”۔ تاہم اسرائیل کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اگر حزب اللہ دوبارہ اسلحہ سازی کرے یا حملے کرے تو وہ کارروائی کر سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس حصے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تین مراحل پر مبنی امن منصوبہ

رائٹرزکے مطابق مجوزہ امن منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں تمام محاذوں پر فوری طور پر جنگ کا باضابطہ خاتمہ کیا جائے گا جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کرتے ہوئے اسے تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔ تیسرے مرحلے میں وسیع تر معاہدے کے لیے 30 روزہ مذاکرات کی ونڈو کھولی جائے گی جسے بعد میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس مرحلے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی، پابندیوں میں مستقل نرمی اور جنگی نقصانات کے معاوضے جیسے امور زیر بحث آئیں گے۔

پاکستان کا کلیدی ثالثی کردار

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرتے ہوئے اپنے کردار کا لوہا منوا لیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ روز تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، چیف نیگو شیٹر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ پاکستان کی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے شدید مذاکرات نے ایک حتمی سمجھوتے کی طرف "حوصلہ افزا پیش رفت” کی ہے۔

ایرانی قیادت نے پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے کے مسائل کے پرامن حل کے لیے اس کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس سے قبل 8 اپریل کو بھی پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی تھی اور 11-12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطحی براہ راست مذاکرات ہوئے تھے۔

رکاوٹیں اور آگے کا راستہ

اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے کے قریب ہونے کا عندیہ دیا ہے، لیکن ایرانی حکام نے اب بھی احتیاط کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات "گہرے اور اہم” ہیں اور باضابطہ معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکرات جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہیں جبکہ جوہری پروگرام بعد کے مراحل میں زیر بحث آئے گا۔

ایران کے نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طے پانے والا معاہدہ ایران کو آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دے گا اور ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے کا بیان "حقیقت سے ہم آہنگ نہیں” ہے۔ ایک نامعلوم ذرائع کے حوالے سے فارس نے مزید کہا کہ ایران اس وقت جوہری پروگرام پر بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسے مذاکرات سے قبل اس کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ ہے۔

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایران "آج یا کل” معاہدے کو قبول کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور بات چیت جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ اگر طے پاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ میں ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے جس سے عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو اس سے خطے میں امن و استحکام آئے گا اور پاکستان کی سفارتی اہمیت عالمی سطح پر مزید اجاگر ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں