پاکستان مذاکرات اور دیرپا امن کیلئے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کو فروغ دینے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مسلسل تعمیری کردار ادا کر رہا ہے، انہوں نے زور دیا کہ دیرپا امن کے حصول کیلئے سفارت کاری اور مسلسل مشغولیت ناگزیر ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی پارلیمانی فورم کے موقع پر کیا جہاں پاکستان کے سفارتی کردار کو اجاگر کیا گیا۔
استنبول میں آئی پی یو اجلاس، ترک قیادت سے ملاقات
یہ گفتگواستنبول میں بین الپارلیمانی یونین (IPU) کی 152ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر Numan Kurtulmuş سے ملاقات کے دوران ہوئی، اس موقع پر سردار ایاز صادق نے اجلاس کی کامیاب میزبانی پر ترک حکومت اور عوام کو مبارکباد دی اور عالمی پارلیمانی تعاون کو سراہا۔
پارلیمانی سفارت کاری اور عالمی تعاون کی اہمیت
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایسے عالمی پارلیمانی فورمز منتخب نمائندوں کو خیالات اور تجربات کے تبادلے کا اہم موقع فراہم کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارمز مشترکہ چیلنجز پر بات چیت اور عالمی امن و ترقی کیلئے جمہوری اقدار، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیتے ہیں۔
پاکستان ترکیہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جنگ اور تصادم مسائل کا حل نہیں بلکہ بامعنی مذاکرات ہی پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔
ترک قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف
ترک اسپیکر نے علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کیلئے اس کی بروقت کوششوں کو اہم قرار دیا، انہوں نے پاکستان کی قیادت بشمول Shehbaz Sharif، Ishaq Dar اور Asim Munir کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
پارلیمانی سفارت کاری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
دونوں اسپیکرز نے علاقائی امن و استحکام کیلئے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پارلیمانی سفارت کاری کو مزید فروغ دینے، وفود کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور باہمی احترام کیلئے اپنی پالیسی کے تسلسل کا اعادہ کیا۔