نیٹو احمقانہ غلطی کر رہا ہے، ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں: ٹرمپ
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کسی بھی قسم کی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں جبکہ نیٹو خطے میں اپنی عدم موجودگی کے باعث “احمقانہ غلطی” کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کی جانب سے حمایت حاصل رہی، تاہم نیٹو اتحاد کی طرف سے متوقع تعاون سامنے نہیں آیا جس پر انہیں شدید مایوسی ہے۔
برطانیہ سے شکوہ اور اتحادیوں پر تنقید
ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بروقت تعاون نہیں کیا اور بعد ازاں امریکا کی کامیابی کے بعد دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی طور پر وہ اسٹارمر کو ایک اچھا انسان سمجھتے ہیں، تاہم اس معاملے پر انہیں مایوسی ہوئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات مغربی اتحاد میں پائے جانے والے اختلافات کو مزید نمایاں کر رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سیکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ایران کے خلاف مؤقف اور خطے کی صورتحال
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایران کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس حقیقت سے آگاہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی خطرے کو ختم کرنا ناگزیر تھا اور امریکا نے اسی تناظر میں اقدامات کیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ امریکا فوری طور پر خطے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں، تاہم مستقبل قریب میں وہاں سے انخلا کا امکان موجود ہے، جس سے خطے کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سیکیورٹی معاملات اور جو کینٹ کا استعفیٰ
صحافیوں کی جانب سے امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم کے ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفے سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے انہیں ایک اچھا انسان سمجھتے تھے، تاہم سیکیورٹی معاملات میں انہیں کمزور تصور کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے جو کینٹ کا بیان پڑھا تو انہیں محسوس ہوا کہ ان کا عہدہ چھوڑنا بہتر فیصلہ تھا۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے امریکی داخلی سیکیورٹی پالیسی اور قیادت کے حوالے سے بھی سوالات جنم لے سکتے ہیں۔
عالمی سیاست پر ممکنہ اثرات
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نہ صرف نیٹو کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اختلافات مزید بڑھے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، سفارتی تعلقات اور خطے کے استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔