آئین کےعدم موجودگی۔ آمریت وفسطایت کا باعث
تحریر۔۔۔۔۔ ماہ نور احمد
نظام کائنات کی ہر شے اپنے متعین کردہ حدودو قیود، قواعد و ضوابط کے مطابق سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔سورج چاند ستارے اپنے متعین کردہ وقت پر طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور ایک خاص مدار میں گردش کرتے ہیں اسی طرح انسان کے لئے بچپن سے ہی جن حدودکا تعین کر دیا جاتا ہے۔اگر وہ ان پر کاربندہے تو انسان ورنہ جانور سے بھی کمتر درجے پر پہنچ جاتا ہے۔
کسی بھی ملک میں اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کے لئے آئین بنایا جاتا ہے،آئین کسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔آئین کی غیر موجودگی میں ملک جنگل کی مانند ہوتا ہے جہاں صرف طاقت ورکا بول بالا ہوتا ہے آئین افراد اور اداروں کے لیے حقوق و فرائض کا تعین کرتی ہے جس سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس میں افراد اپنی منشاء کے مطابق زندگی گزار سکیں پاکستان کا آئین ایک پارلیمانی اور جمہوری نظام کی تشکیل کرتا ہے جس میں خدا کی واحدا نیت کا اقرار اسلامی طرز حکومت اداروں کی بالادستی ملک کے تین اہم ستون انتظامیہ مقننہ عدلیہ میں اختیارات کے توازن کی بر قراریت،عوام کے بنیادی حقوق کا محافظ اور پالیسی اصول کی رہنمائی کرتا ہے۔آئین سے اداروں کو بے لاگ آزادی نہیں بلکہ وہ متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے عوام کے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔
جو دو دفعہ معزول ہو چکا ہے اور متعدد ترامیم آگئیں ہیں مگر ابھی تک کسی نہ کسی حالت میں نافذالعمل ہے۔جبکہ اس آئین کا موازنہ بھارت سے کیا جائے تو بھارت نے آزادی کے دوسرے ہی سال اپنا آئین بنایا اور ابھی تک وہی آئین نافذالعمل ہے۔بحیثیت قوم اپنے ملک میں جمہوری اقدار مضبوط کرنے کے لیے اور ایک ترقی یافتہ ملک کی تشکیل کے لئے آئین کی اہمیت کو سمجھنا چاہئیے ان حدود وقیود کا احترام کرنا چاہئیے جو اس کے تحت ہم پر لاگو ہیں اور متعین کردہ ضوابط میں رہ کر زندگی بسر کرنی چاہئیے۔
1962ء کے آئین کی معزولی کے بعد 1971 میں پاکستان دو لخت ہو گیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئین کی عدم موجودگی ملک کی تباہی کا باعث ہے۔سابق حکمران اگر جذبات کی رو میں عوام کو اس بات پر اکساتے ہیں کہ آئین پر عمل نہ کریں یا آئین شکنی کریں تو اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ پھر یہ ملک نہیں بلکہ ایک جنگل ہوگا جہاں آمریت اور فسطائیت کا دور دورہ ہوگا اوراس کے صریح نتائج عوام کو بھگتنے ہوں گے۔
ملک پہلے ہی سیلاب کے ہاتھوں شدید مشکل صورتحال سے دوچار ہے سڑکیں سکول ہسپتال سرکاری عمارت، مواصلاتی نظام درہم برہم ہے مفلس عوام کا ساتھ دینے کے بجائے اگر ان کو غلط راہ پر لے جایا جائے تو ایسے ملک عدم استحکام کا شکار رہے گا اور معاشی ترقی کی منزل حاصل نہ کر سکے گا۔ مفاہمت اور رواداری کی سیاست کافروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔