بھارتی ایئرپورٹس پر افراتفری؛ انڈیگو کی سیکڑوں پروازیں منسوخ، ہزاروں مسافر پریشان

india-airports-chaos-indigo-flights-cancelled

یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) بھارتی ایئرپورٹس پر افراتفری انڈیگو کی سیکڑوں پروازیں منسوخ ہونے کے باعث پیدا ہوئی، مسافر کئی گھنٹے انتظار کرتے رہے جبکہ ایئرلائن نئے قواعد کے مطابق شیڈول ایڈجسٹ کرنے میں ناکام رہی۔

بھارت کے بڑے ایئرپورٹس جمعے کے روز شدید افراتفری کا شکار رہے، جہاں ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرلائن انڈیگو کی درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں پروازیں منسوخ ہونے کے باعث ہزاروں مسافر مشکلات میں گھرے رہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ بحران اس وقت شدید ہوا جب پائلٹس اور کیبن کریو کے لیے کام کے اوقات محدود کرنے سے متعلق نئے حفاظتی قواعد نافذ ہوئے، جن کے باعث ایئرلائن اپنے شیڈول کو وقت پر ایڈجسٹ کرنے میں ناکام رہی۔

رپورٹس کے مطابق ایئرپورٹس پر مسافروں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، کئی لوگ گھنٹوں تک بغیر معلومات انتظار کرتے رہے جبکہ کچھ مسافر تھکن کے باعث فرش پر سوئے بھی نظر آئے۔ کسٹمر سروس کاؤنٹرز کے باہر بے چینی کی فضا رہی اور مسافر بار بار استفسار کے باوجود یہ نہ جان سکے کہ ان کی پرواز کب روانہ ہو گی یا متبادل آپشن کیا ہے۔

نئے قواعد کے تحت عملے کے لیے آرام کے اوقات میں اضافہ کیا گیا ہے اور رات کے وقت پروازوں کی حد بھی مقرر کی گئی ہے، جس کا مقصد تھکن اور حفاظتی خدشات کو کم کرنا ہے۔ ان ضوابط کا پہلا مرحلہ رواں سال جولائی جبکہ دوسرا مرحلہ نومبر میں نافذ ہوا تھا۔ ایئرلائن ان قواعد کے ساتھ شیڈول کو مناسب انداز میں ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث مسلسل چوتھے روز پروازیں بری طرح متاثر ہوئیں۔

جمعرات کو انڈیگو کی 300 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئی تھیں جبکہ مزید سیکڑوں پر تاخیر کا شکار رہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بحران بھارت کے ہوائی سفر کے شعبے میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران دیکھے جانے والے بڑے آپریشنل مسائل میں سے ایک ہے۔

“بھارتی ایئرپورٹس پر انڈیگو کی پروازوں کی منسوخی کے بعد مسافروں کی طویل قطاریں”

دہلی ایئرپورٹ کی جانب سے جمعے کو جاری ہدایت میں تمام اندرونِ ملک انڈیگو پروازیں نصف شب تک منسوخ رکھنے کا اعلان کیا گیا، جس سے مسافروں کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔ دوسری جانب بھارتی ایئرلائنز میں شامل دیگر ادارے، جن میں ایئر انڈیا بھی شامل ہے، اب تک اس نوعیت کے مسائل سے محفوظ نظر آئے ہیں۔

انڈیگو بھارت کی سب سے بڑی کم لاگت ایئرلائن ہے جو روزانہ تقریباً 2300 پروازیں چلاتی ہے اور ملک کی اندرونِ ملک فضائی مارکیٹ کا تقریباً 65 فیصد حصہ اسی کے پاس ہے۔ اس بحران کے بعد ملک بھر میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا نئی پالیسی کے نفاذ سے قبل مناسب منصوبہ بندی کی گئی تھی یا ایئرلائن کے اندرونی انتظامی مسائل اس بدانتظامی کا باعث بنے۔ایئرلائن نے عندیہ دیا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بعد 10 فروری تک اس کی تمام پروازیں معمول کے مطابق بحال ہو جائیں گی، تاہم مسافر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا آئندہ بھی اسی نوعیت کے بڑے خلل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا ایک پائیدار حل جلد سامنے آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں