بجلی مزید مہنگی؟ نیپرا کے نئے نوٹیفکیشن نے صارفین کو چونکا دیا

بجلی مزید مہنگی؟ نیپرا کے نئے نوٹیفکیشن نے صارفین کو چونکا دیا
نمائندہ خصوصی و بیوروچیف شہزاد حُسین بھٹی

یوتھ ویژن نیوز : (نمائندہ خصوصی و بیوروچیف شہزاد حُسین بھٹی سے) ملک بھر کے عوام کے لیے ایک اور بُری خبر سامنے آئی ہے کیونکہ نیپرا نے کراچی سمیت پورے پاکستان میں بجلی مزید مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 8 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ہے جس کا اطلاق کراچی کے صارفین پر بھی ہوگا۔ حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق یہ اضافہ تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے صارفین پر لاگو ہوگا اور اس کی وصولی اکتوبر کے بلوں میں کی جائے گی۔ نیپرا کے مطابق یہ اضافہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مارکیٹ میں توانائی کے اخراجات میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اگست کی ایڈجسٹمنٹ میں 19 پیسے فی یونٹ اضافے کی سفارش کی تھی تاہم نیپرا نے تفصیلی جائزے کے بعد صرف 8 پیسے اضافے کی منظوری دی۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اضافہ معمولی دکھائی دیتا ہے مگر مجموعی طور پر بجلی کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ صارفین کے لیے مزید مالی دباؤ کا باعث بنے گا۔

دوسری جانب، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے بھی صارفین پر ایک نیا بوجھ ڈال دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لیسکو نے پرائیویٹ کمپنیوں کو اے ایم آئی (AMI) میٹرز تیار کرنے اور فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے ان کمپنیوں کو کروڑوں روپے منافع حاصل ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق جو میٹر پہلے 5 ہزار روپے میں دستیاب تھا اب صارفین کو وہی میٹر 25 ہزار روپے میں خریدنا پڑے گا، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ لیسکو نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب لیسکو خود میٹر فراہم نہیں کرے گا بلکہ صرف این او سی جاری کرے گا، اور صارفین کو نئے کنکشن یا خراب میٹر کی تبدیلی کے لیے انہی پرائیویٹ کمپنیوں سے میٹر خریدنا ہوگا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے اور نجی کمپنیوں کو اس طرح کی مراعات دینے سے بجلی کے شعبے میں شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف دیا جا سکے۔

نیپرا حکام نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں یہ ایڈجسٹمنٹ قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہے اور بجلی کے نرخوں کا تعین فیول لاگت اور توانائی کے ذرائع کی دستیابی کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ہر ماہ اضافے سے ان کے گھریلو بجٹ پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ توانائی کے بحران کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھیں تو آئندہ مہینوں میں بھی بجلی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں صارفین کو محتاط رہنے اور توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کے نظام کو مستحکم کرنے اور گردشی قرضے کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔ تاہم عوامی سطح پر یہ خدشہ برقرار ہے کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کے لیے مشکلات بڑھاتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں