اسلام آباد مذاکرات بغیر معاہدہ ختم، امریکی وفد 21 گھنٹے بعد واپس روانہ
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد: پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل 21 گھنٹے کے مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہو گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں مختصر پریس بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ کئی اہم امور پر تفصیلی گفتگو کے باوجود دونوں فریق کسی مشترکہ نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے سامنے اپنی ” حتمی اور بہترین پیشکش“رکھ دی تھی، تاہم تہران نے امریکی شرائط، خصوصاً جوہری ہتھیار نہ بنانے کی واضح یقین دہانی، قبول نہیں کی۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جا کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کرے گا۔
پاکستانی کردار کو سراہا گیا
پریس بریفنگ میں جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس پورے سفارتی عمل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں جو بھی خلا رہا، وہ پاکستان کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ میزبان ٹیم نے دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ کم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
اختلاف کی بنیادی وجہ کیا رہی؟
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑا نکتہ اختلاف ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی صورتحال، پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے سے متعلق مطالبات رہے۔ امریکا ایران سے واضح عہد چاہتا تھا کہ وہ مستقبل میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، جبکہ ایران نے بعض شرائط کو “ضرورت سے زیادہ” قرار دیا۔
اگلا مرحلہ کیا ہو سکتا ہے؟
اگرچہ اس مرحلے پر کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی نے دونوں ممالک کو براہِ راست مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم پیش رفت کی ہے، اور آئندہ دنوں میں دوسرے دور کے امکانات بھی موجود ہیں۔ عالمی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا ایران امریکی “فائنل آفر” پر دوبارہ غور کرتا ہے یا نہیں۔