پاک-سعودی دفاعی شراکت داری میں نیا سنگِ میل: پاک فوج کا دستہ کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا۔
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ریاض/اسلام آباد: سعودی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کا ایک فوجی فضائی دستہ مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ دستہ پاک فضائیہ کے فائٹر اور سپورٹ طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری ہم آہنگی، آپریشنل تیاری اور علاقائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سعودی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ تعیناتی گزشتہ برس طے پانے والے مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے۔ بیان کے مطابق اس اقدام سے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جنگی تیاری، دفاعی رابطہ اور مشترکہ ردعمل کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
دفاعی معاہدہ اور علاقائی تناظر
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستانی فضائی دستے کی موجودگی سعودی عرب کے لیے ایک مضبوط دفاعی یقین دہانی اور علاقائی deterrence کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ستمبر میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد نہ صرف دفاعی تعاون بڑھانا بلکہ مشترکہ ردعمل اور اسٹریٹجک استحکام کو یقینی بنانا بھی ہے۔
اسلام آباد مذاکرات کے ساتھ اہم پیش رفت
اس تعیناتی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اسی وقت پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایک جانب پاکستان سفارتی سطح پر امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ عسکری تعاون بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جو اسلام آباد کی کثیرالجہتی خارجہ حکمتِ عملی کو نمایاں کرتا ہے۔
خطے میں سلامتی کے لیے مشترکہ پیغام
سفارتی اور عسکری حلقوں کے مطابق یہ تعیناتی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ اعتماد، دفاعی شراکت داری اور خطے میں استحکام کے مشترکہ وژن کی علامت ہے۔ اس اقدام کو آبنائے ہرمز، آئل فیلڈز اور خلیجی سلامتی سے جڑے خدشات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔