امریکی ماہر کا ہنگامہ خیز بیان: ٹرمپ اور نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے سنگین الزامات

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کے تناظر میں عالمی منظرنامہ

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) واشنگٹن: عالمی امور کے معروف امریکی ماہر جان میئر شائمر نے ایک متنازع بیان میں کہا ہے کہ اگر نیورمبرگ طرز کے بین الاقوامی ٹرائلز منعقد کیے جائیں تو موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزامات پر سخت سزاؤں، حتیٰ کہ سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ شائمر نے اپنے ویڈیو بیان میں واضح کیا کہ ماضی میں نازی جرمنی کے رہنماؤں کے خلاف نیورمبرگ ٹرائلز میں جو قانونی کارروائی کی گئی، اسی اصول کے تحت موجودہ امریکی اور اسرائیلی قیادت کے خلاف بھی الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

جان میئر شائمر نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف غیر ضروری اور بلاجواز فوجی کارروائیاں کی ہیں، جن میں جون 2025 کے حملے اور حالیہ حالیہ فوجی آپریشن شامل ہیں۔ ان کے مطابق، ان حملوں کے لیے ایران کی جانب سے کوئی واضح فوجی جواز موجود نہیں تھا، اور نتیجتاً ایرانی قیادت، فوجی کمانڈرز، توانائی تنصیبات، اور شہری انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا، جس کے باعث متعدد عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں یہ بھی: ٹرمپ نے ایران جنگ سے جلد نکلنے کا عندیہ دے دیا

شائمر نے مزید کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو بھی بین الاقوامی قانون کے تناظر میں سنگین نوعیت کے الزامات کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے، اور ایران کی جانب سے ان حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ماہر کے مطابق، یہ سلسلہ بین الاقوامی برادری کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے اور عالمی عدالتیں مستقبل میں ان الزامات کی تحقیقات کر سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیورمبرگ طرز کے ٹرائلز منعقد کیے جائیں تو یہ بین الاقوامی سطح پر امریکی اور اسرائیلی قیادت کے لیے ایک تاریخی امتحان ثابت ہو سکتے ہیں، جس میں قانونی اور اخلاقی پہلوؤں کی روشنی میں عالمی عدالتوں کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ شائمر نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور انسانی حقوق کا تحفظ عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، اور کسی بھی ریاست یا قیادت کے لیے اس کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔

یہ بیان عالمی سیاست میں ایک نئے تنازع کی بنیاد رکھ سکتا ہے، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تعلقات میں، اور بین الاقوامی برادری کی نظریں اس معاملے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ اس بیان کے بعد مختلف ممالک کی حکومتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی فوری ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ممکنہ قانونی ذمہ داریوں پر بحث کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں