نورا فتیحی کے گانے پر فتویٰ، پابندی عائد

نورا فتیحی کا متنازع گانا ’سرکے چنر‘ تنازع کا شکار، فتویٰ اور پابندی کے بعد بحث جاری۔

نورا فتیحی کے متنازع گانے پر فتویٰ جاری، فحش مواد قرار دے کر کارروائی کا مطالبہ، حکومتی سطح پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ممبئی / لکھنؤ — بالی ووڈ ڈانسر و اداکارہ نورا فتیحی کا نیا گانا ’سرکے چنر تیری سرکے‘ ریلیز ہوتے ہی شدید تنازع کا شکار ہو گیا ہے، جس کے بعد اس کے خلاف فتویٰ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ گانے میں اداکار سنجے دت بھی شامل ہیں اور یہ فلم ’ڈی: دی ڈیول‘ کا حصہ ہے۔

فتویٰ اور مذہبی ردعمل

بھارتی ریاست اترپردیش کے دارالافتاء کی جانب سے اس گانے کے خلاف فتویٰ جاری کیا گیا ہے۔ ایک سینئر عالمِ دین نے گانے کے مناظر کو فحش قرار دیتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام اور سنگین گناہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسے مواد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

نورا فتیحی کا مؤقف

ابتدائی ردعمل میں نورا فتیحی نے وضاحت کی تھی کہ گانے کا فحش ہندی ورژن ان کی اجازت کے بغیر تیار کیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مواد کی ذمہ دار نہیں ہیں۔

حکومتی سطح پر ایکشن

تنازع بڑھنے کے بعد بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا اور متنازع گانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق عوامی شکایات اور مذہبی حساسیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر بحث

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث جاری ہے، جہاں کچھ صارفین اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر اسے اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے تنازعات مستقبل میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر جب مواد مذہبی یا ثقافتی حساسیت سے جڑا ہو۔

تفریح اور حدود کا سوال

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ تفریحی مواد میں اخلاقی اور سماجی حدود کو کس حد تک مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے متوازن پالیسی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں