یو اے ای کی پاکستان کو 2 ارب ڈالر ڈیپازٹس رول اوور کی یقین دہانی

یو اے ای پاکستان 2 ارب ڈالر رول اوور کی یقین دہانی، زرمبادلہ ذخائر کیلئے ریلیف

یوتھ ویژن نیوز : (معین خان غوری سے) یو اے ای پاکستان 2 ارب ڈالر رول اوور کی یقین دہانی کروا چکا، اسحاق ڈار کے مطابق بات چیت جاری ہے اور اس بار رول اوور کی مدت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

اسلام آباد: یو اے ای نے پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس رول اوور کرانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق یو اے ای پاکستان میں موجود 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس زرمبادلہ کے ذخائر سے نہیں نکالے گا، جبکہ ان ڈیپازٹس کے رول اوور سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اس یقین دہانی کو زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ یو اے ای حکومت کے ساتھ رول اوور کے حوالے سے رابطہ برقرار ہے اور اس بار جو رول اوور ہوگا، اس کی مدت پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ اقتصادی ماہرین کے نزدیک ڈیپازٹس کا رول اوور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے، مالی ضروریات کی پلاننگ بہتر بنانے اور مارکیٹ میں اعتماد برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب معیشت کو بیرونی ادائیگیوں اور مالی نظم و ضبط کے تقاضوں کا سامنا ہو۔

پاکستان اور یو اے ای مالی تعاون: موجودہ معاشی منظرنامے میں اہمیت

نائب وزیراعظم نے اپنے بیان میں حکومت کی مجموعی سفارتی اور معاشی سمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن نے ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے میں کردار ادا کیا اور اسی وژن کے تحت پاکستان کو خارجہ امور میں مسلسل کامیابیاں ملیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا عالمی برادری میں مقام اور مرتبہ تسلیم کیا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مختلف سطحوں پر کامیابیاں ملی ہیں اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ تسلط کے معاملے کو عالمی فورمز پر اجاگر کرتا رہے گا۔ حکومتی موقف کے مطابق سفارتی محاذ پر فعال کردار کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کیلئے دوست ممالک کے ساتھ مالی و سرمایہ کاری تعاون کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیپازٹس رول اوور کی یقین دہانی سے فوری طور پر ایک مثبت اشارہ ضرور ملتا ہے، تاہم پائیدار معاشی بہتری کیلئے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات جیسے عوامل بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت کیلئے یہ چیلنج برقرار ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم رکھتے ہوئے اندرونی سطح پر کاروباری اعتماد اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیسے کیا جائے۔

یہ خبر آپ کے فراہم کردہ متن اور اس میں بیان کردہ موقف پر مبنی ہے۔ چونکہ میرے پاس ویب تک رسائی فعال نہیں، اس لیے میں نوٹیفکیشن/دستاویزی حوالہ، تاریخ یا اضافی تصدیقی تفصیلات خود سے شامل نہیں کر رہا تاکہ غیر مصدقہ معلومات خبر کا حصہ نہ بنیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں