پشاور ہائیکورٹ کا بڑا حکم ! گورنر کو کل شام 4 بجے تک وزیراعلیٰ سے حلف لینے کی ہدایت، تاخیر پر اسپیکر کو اختیار مل گیا
پشاور ہائیکورٹ کا حکم، گورنر خیبر پختونخوا کل 4 بجے تک وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لیں، تاخیر پر اسپیکر کو اختیار دے دیا گیا۔ آئینی بحران حل کی جانب۔
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے آرٹیکل 255 کے تحت دائر آئینی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کل شام 4 بجے تک حلف لیں۔
عدالت نے واضح احکامات دیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ہدایت کی ہے کہ وہ نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے کل شام چار بجے تک حلف لیں، بصورت دیگر اسپیکر صوبائی اسمبلی کو اختیار ہوگا کہ وہ خود حلف برداری کی کارروائی مکمل کریں۔
عدالت کا یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر سنایا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ گورنر حلف لینے میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، جس سے صوبائی حکومت کے قیام کا عمل رکا ہوا ہے۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین کا تقاضا ہے کہ نومنتخب وزیر اعلیٰ سے بلا تاخیر حلف لیا جائے تاکہ صوبے میں آئینی تسلسل اور گورننس کا عمل متاثر نہ ہو۔ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ اگر گورنر مقررہ وقت تک اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو آئین کے تحت اسپیکر اسمبلی کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ وزیر اعلیٰ سے حلف لے کر آئینی عمل مکمل کریں۔
مزید پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کا بڑا حکم! وزیراعلیٰ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کے حلف میں تاخیر پر گورنر طلب
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب آئینی تقاضوں کے مطابق ہوا ہے، لہٰذا اب حلف برداری میں تاخیر کسی صورت جائز نہیں۔ سماعت کے دوران عدالت میں حکومت اور گورنر کے نمائندوں کے دلائل سنے گئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر اس وقت کراچی کے سرکاری دورے پر ہیں اور کل واپسی کے بعد فیصلہ کریں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو غیر یقینی میں نہیں رکھا جا سکتا، گورنر کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ حلف لیں اور اگر وہ دستیاب نہیں ہیں تو آئین نے متبادل راستہ فراہم کیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ دینا ایک یکطرفہ عمل ہے، اور ایک بار جب اسمبلی کے فلور پر استعفیٰ دیا جا چکا ہو تو گورنر کی منظوری محض رسمی نوعیت رکھتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ گورنر کا کردار آئینی حدود کے اندر ہے اور وہ سیاسی بنیادوں پر تاخیر نہیں کر سکتے۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے نہ صرف استعفیٰ دیا بلکہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں ووٹ بھی دیا، اس کے باوجود گورنر جان بوجھ کر تاخیر کر رہے ہیں تاکہ سیاسی بحران کو طول دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت مداخلت نہ کرتی تو صوبے میں ایک غیر آئینی خلا برقرار رہتا۔ دوسری جانب گورنر کے وکیل عامر جاوید نے مؤقف اپنایا کہ گورنر نے سابق وزیر اعلیٰ کو وضاحت کے لیے طلب کیا ہے اور واپسی پر قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، تاہم عدالت نے ان کے مؤقف کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا گورنر کل حلف لینے کو تیار ہیں یا نہیں، جس پر حکومتی وکیل کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔
عدالت نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا اور بعدازاں تحریری حکم جاری کرتے ہوئے گورنر کو پابند کیا کہ وہ 15 اکتوبر کی شام چار بجے تک نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ صوبے کے انتظامی معاملات کو آئینی فریم ورک کے اندر چلانا ناگزیر ہے اور کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آئین کے تقاضوں کو اپنی صوابدید پر مؤخر کرے۔ اس فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا میں کئی دنوں سے جاری سیاسی بے یقینی کسی حد تک ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ صوبے میں آئینی بالادستی کے قیام کی ایک مثال ہے، جس سے نہ صرف گورنر کے اختیارات کی حدود متعین ہوئیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی خودمختاری کو بھی تقویت ملی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر گورنر کسی وجہ سے دستیاب نہ ہوں تو اسپیکر صوبائی اسمبلی حلف لے کر حکومت سازی کے عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں تاکہ صوبے کے عوام کو نمائندہ حکومت میسر رہے۔
اس فیصلے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سہیل آفریدی کل وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھا لیں گے، اور یوں خیبر پختونخوا میں نیا سیاسی باب کھلے گا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ کی جانب سے آئینی بالادستی کے لیے ایک تاریخی اقدام ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حلف میں بلاجواز تاخیر دراصل عوام کے مینڈیٹ کی توہین تھی، جسے عدالت نے اپنے بروقت فیصلے سے ختم کر دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد گورنر ہاؤس پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ مزید تاخیر کے بجائے فوری طور پر آئینی تقاضے پورے کریں۔ اگر گورنر نے کل تک حلف نہ لیا تو اسپیکر اسمبلی خود حلف برداری کی رسم ادا کر کے نئی حکومت کو فعال بنا دیں گے۔ یہ فیصلہ نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک میں ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ آئین کی بالادستی کو ہر سیاسی مصلحت پر مقدم رکھا جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کی سمت ایک مثبت قدم ہے جس سے صوبائی حکومت کے قیام میں تاخیر ختم ہو گی اور انتظامی معاملات معمول پر آنے کی راہ ہموار ہو گی۔ عدالت کے فیصلے نے واضح پیغام دیا ہے کہ آئین سب سے بالاتر ہے اور کسی فرد یا منصب دار کو اس کے خلاف تاخیر یا عدم تعمیل کا اختیار حاصل نہیں۔