دوسری شادی کے خواہشمند ہو جائیں ہوشیار و تیار

لاہور(واصب ابراہیم غوری سے )عدالت نے پہلی بیوی سے اجازت نہ لینے پر دولہا کو سزا سنا دی، پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنیوالے کو جیل بھیج دیا گیا۔

بیوی سے دوسری شادی کی اجازت نہ لینا مہنگا پڑ گیا، عدالت نے سزا سنائی تو پولیس نے گرفتار کرنے سے دیر نہیں کی،فوری ہتھکڑیاں لگائیں اور حوالات منتقل کر دیا،ملزم غلام رسول کی پہلی بیوی نے اپنے شوہر کے خلاف کیس کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کی ہے اور مجھ سے اجازت نہیں لی، لاہور کی ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی جب کہ 5 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانہ بھی کیا تھا۔

ملزم نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم نے شہری غلام حسین کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ پہلی بیوی نیلم امتیاز کی اجازت کے بغیر کلثوم بی بی سے شادی کی۔ سول کورٹ نے پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور چھ ماہ کی قید سنائی سیشن کورٹ نے اپیل خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

ہائیکورٹ سے سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عبوری ضمانت منظور کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی سرکاری وکیل نے عبوری درخواست ضمانت کی مخالفت کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت خارج کردی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ کی سیکورٹی کے انچارج سب انسپکٹر ملک محمد اعجاز کی سربراہی میں ٹیم نےملزم کو حراست میں لے کر پرانی انارکلی پولیس کے حوالے کردیا، میانوالی پولیس نے ملزم کے خلاف پہلی بیوی نیلم امتیاز کے مقدمہ درج کروایا تھا۔

قبل ازیں ماہ دسمبر میں بغیر اجازت دوسری شادی کا کیس،لاہورہائیکورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ،لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں پر جھوٹے الزام لگانا بڑھتا جا رہا ہے۔

دوسری شادی کرنیوالے شحض کے خلاف صرف پہلی بیوی ہی مقدمہ درج کروا سکتی ہے ،درخواست گزار کے خلاف پہلی بیوی کے بجائے برادرنسبتی نے مقدمہ کروایا جو غلط ہے، ماتحت عدالتوں کے پاس مقدمہ خارج کرنے کے اختیار نہیں ماتحت عدالتیں صرف پولیس رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ خارج کر سکتی ہیں دوسری شادی کا کیس سننے کا اختیار صرف فیملی کورٹ کو ہے، ایک ہی جرم کو دوبارہ توڑ موڑ کر کی نیا مقدمہ درج کرایا گیا۔

درخواست گزار پر اس نے مقدمہ درج کرایا جو متاثرہ فریق ہی نہیں تھا درخواست گزار نے متعلقہ مجسٹریٹ کے روبرو مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی مجسٹریٹ نے درخواست گزار کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

لاہورہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ متعلقہ مجسٹریٹ نے دوسری ایف آئی آر خارج نہ کرنے کا فیصلہ درست لیا،دوسری شادی سے متعلق تمام پہلوؤں اور مسائل کو صریحاً فیملی کورٹ دیکھے گی قانون کے مطابق اگر حقائق تقریباً ایک جیسے ہیں تو دوسری ایف آئی آر کی اجازت ہی نہیں، درخواست گزار کے موقف پر بات کی جا سکتی ہے لیکن صرف فیملی عدالت میں، درخواست گزار نے بغیر بتائے دوسری شادی کی یا جعلی اجازت نامہ بنایا اسکا فیصلہ فیملی عدالت کو کرنا ہے، درخواست گزار فیملی عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کر سکتا ہے،حقائق کے مطابق پہلی بیوی نے اپنی خاوند کی دوسری شادی چیلنج نہیں کی

اپنا تبصرہ بھیجیں