ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا، چینی صدر کا مجھ سے واضح وعدہ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا، چینی صدر کا وعدہ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا انکشاف

واشنگٹن/بیجنگ (یوتھ ویژن نیوز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ بیجنگ میں ہونے والے حالیہ تاریخی اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں قطعی یقین دہانی کروائی ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عالمی سیاست، چین کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدوں اور پاکستان سے متعلق اہم بیانات دیے۔

چین کے ساتھ اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدے

صدر ٹرمپ نے بیجنگ دورے کو معاشی طور پر انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پیش کیے:

  • بوئنگ طیاروں کی فروخت: چین نے ابتدائی طور پر 200 امریکی بوئنگ طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے، جس کی تعداد مستقبل میں 750 تک پہنچ سکتی ہے۔
  • زرعی برآمدات: امریکی کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اربوں ڈالر کی سویابین خریدے گا۔
  • پابندیوں میں نرمی: صدر نے اشارہ دیا کہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایران کی فوجی صورتحال اور ایٹمی پروگرام

ایران کے حوالے سے سخت لہجہ اپناتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے خلاف جنگی برتری حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ محض دو دن میں ایران کے تمام پاور پلانٹس تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری مواد امریکہ یا چین منتقل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے اور وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو 20 سال تک معطل دیکھنے کے خواہاں ہیں۔

پاکستانی قیادت کی تعریف اور عالمی امور

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے حوالے سے مثبت جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو "عظیم شخصیات” قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت کو سراہا۔

تائیوان کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں لیکن اپنی امیگریشن اور توانائی کی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کی تردید

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کا 80 فیصد میزائل نظام اب بھی محفوظ ہے، صدر ٹرمپ نے اسے "سنگین غداری” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں